خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 404
خطبات ناصر جلد نهم ۴۰۴ خطبہ جمعہ ۱۹ رفروری ۱۹۸۲ء معنے یہ کر دیئے جاتے ہیں کہ مومنوں کے لئے بشیر اور کافروں کے لئے نذیر لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت جب قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوئی وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا (سبا: ۲۹) تو یہ بشیر و نذیر مومن و کافر کے لئے ہیں۔اس کی وضاحت کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے سورۃ اعراف میں فرمایا انسان کو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (الاعراف: ۱۸۹) میں نذیر بھی ہوں اور بشیر بھی ہوں مومنوں کے لئے۔نذیر ہونا، ہوشیار کرنا، انتباہ کرنا مومن کو اور ہے کافر کو اور۔یہ تو تسلیم لیکن یہ سمجھنا کہ آپ بشیر صرف مومن کے لئے ہیں اور نذیر صرف کافر کے لئے ہیں ، یہ غلط ہے۔قرآن کریم کی آیات اس کی توثیق نہیں کرتیں۔کافروں کو یہ بشارت دی کہ اگر اس زندگی میں بھی تم خوشحالی اور امن اور سکون کی زندگی چاہتے ہوتو تمہیں قرآن کریم پر ایمان لانا پڑے گا اور ایمان لاؤ گے تو تمہیں سب کچھ مل جائے گا۔قرآن کریم نے ان کو یہ بشارت بھی دی کہ اس زندگی کے بعض معاملات ایسے ہیں جن کا تعلق روحانیت سے نہیں بلکہ محض ورلی زندگی کے ساتھ ہے اور ان معاملات میں اگر تم خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کرو گے جو قرآن کریم نے بتایا تو تمہیں اس کا نتیجہ مل جائے گا۔صرف اس وجہ سے کہ تم قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے اپنے اس عمل کے نتیجہ سے تم محروم نہیں کئے جا سکتے مثلاً فرما یا لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى - وَ أَنَّ سَعْيَه سَوْفَ يُرى (النجم :۴۱،۴۰) اب جس میدان میں غیر مسلم نے یعنی علمی میدان میں اور زندگی کے ان شعبوں میں جن کا براہ راست (ویسے تو ہر چیز کا تعلق روحانی زندگی سے ہے لیکن براہِ راست ) روحانی زندگی سے تعلق نہیں تھا جب کوشش کی تو انہیں نتیجہ مل گیا۔یہ سائنس کی ساری ترقیات خدا تعالیٰ کے ان فضلوں کے نتیجہ میں ملیں جو اللہ تعالیٰ نے دنیوی سعی کو مقبول کر کے اپنی رحمت ان پر نازل کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ سائنس دان ایک ایسا وقت دیکھتے ہیں اپنی زندگی میں کہ جو کوشش کر رہے ہیں علمی میدان میں اندھیرا آ جاتا ہے سامنے اور ان کو کچھ پتہ نہیں