خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 391
خطبات ناصر جلد نهم ۳۹۱ خطبه جمعه ۱۵ /جنوری ۱۹۸۲ء کے لئے سارے اعمالِ صالحہ کرنے چاہئیں لیکن اس نے ہمارے دل میں خواہشات بھی رکھیں ہم نے خود تو نہیں پیدا کیں۔نیکی کے راستوں پر آگے بڑھنے کی خواہش کوئی انسان نہیں پیدا کر سکتا اپنے اندر جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔ایک جگہ فرمایا کہ ہم نے تو چاہا تھا بعض لوگوں کے متعلق کہ ان کو رفعتیں عطا کریں مگر وہ زمین کی طرف جھک گئے۔تو یہ ارادہ اللہ تعالیٰ کا کہ کوئی شخص رفعت حاصل کرے، یہ تبھی پورا ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو جس کے متعلق ارادہ ہو یہ طاقت اور صلاحیت عطا کی جائے کہ وہ رفعتیں حاصل کر سکے اور اپنی رحمت اور فضل سے اس کو توفیق دے کہ اپنی صلاحیتیں اور استعدادیں خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق وہ استعمال کر رہا ہو۔اس واسطے جب ہم یہ سوچتے ہیں اس مضمون کو جو قرآن کریم میں بیان ہوا تو یہ جو جدائی ہے اس کو غلط پہلو سے نہیں دیکھتے بلکہ اس صحیح پہلو سے دیکھتے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اور بھی زیادہ اچھا بننا چاہیے۔خدا تعالیٰ کے حضور اور بھی زیادہ مجاہدہ کر کے قرب حاصل کرنا چاہیے اور ہجرت، اہوائے نفس کی بدیوں سے، اس کی طرف توجہ کر کے اور اپنے نفس کو پاک کرنے کی خدا کے حضور دعا کرنے کے نتیجہ میں کوشش کرنی چاہیے کیونکہ وہ پاک تو جب تک پاک کسی کو بنانے کا ارادہ نہ کرے کوئی انسان پاک نہیں بن سکتا۔اس واسطے یہ تو سلسلہ جاری رہے گا۔اصل چیز پھر یہ ہماری زندگی میں بن گئی اس جدائی کے بعد کہ دل میں یہ تڑپ ہو کہ ہم جنت میں جائیں، ہم اکٹھے ہو جا ئیں اور اپنے زور سے آپ کی روح ان وسعتوں میں اپنے ساتھی کو ڈھونڈ بھی نہیں سکتی ، وہاں پہنچ بھی جائیں تب بھی جب تک اللہ تعالیٰ فیصلہ نہ کرے۔تو خدا تعالیٰ کے حضور اور زیادہ جھکیں اور اپنی زندگی کے مقصد کو پانے کی کوشش کریں اور خدا کرے کہ آپ اپنی زندگی کے مقصد کو پالیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لیں۔آمین از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )