خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 7
خطبات ناصر جلد نهم خطبہ جمعہ ۲؍ جنوری ۱۹۸۱ء میری یہ خواہش ہے اور آپ کی بھی ہونی چاہیے کیونکہ خلیفہ وقت اور جماعت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں کہ دس سال کے اندر اندر یعنی قبل اس کے کہ ہماری زندگی کی دوسری صدی شروع ہو ہم قرآن کریم کا فرانسیسی ترجمہ شائع کر سکیں۔ترجمہ ہو چکا ہے۔لیکن (Revision) نظر ثانی کی ضرورت ہے۔وہ ہو رہی ہے talian ا زبان میں ترجمہ حضرت مصلح موعود نے کروا کے مسودہ رکھا ہوا تھا لیکن Revision نہیں ہو سکی اس وقت اور Revision دو وجہ سے ضروری ہے ایک یہ کہ آج سے چالیس پچاس سال پہلے کی زبان میں جو تر جمہ ہوا ہے۔زبان بھی کچھ بدل گئی ہے۔محاورات بھی بدل گئے۔Revise ہونا چاہیے زبان کے لحاظ سے۔دوسرے یہ کہ جو ترجمہ کسی غیر مسلم، غیر احمدی نے کیا ہے اس کو شائع کرنے کی ذمہ داری نہیں لی جاسکتی جب تک ہمارا آدمی نہ دیکھے کہ مضمون کے لحاظ سے کوئی غلط بات تو نہیں آگئی۔اس کے لئے بھی ہم کوشش کر رہے ہیں کہ زبانیں ہمارے شاہدین سیکھیں۔فرانسیسی جاننے والے تو ہمارے شاہدین پیدا ہو گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم اچھی زبان میں لکھ نہیں سکتے لیکن یہ ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ جو ترجمہ ہوا ہے اس میں مضمون کے لحاظ سے غلطی تو نہیں۔میرا خیال ہے کہ فرانسیسی تر جمہ ان تراجم میں سب سے پہلے آجائے گا۔اٹالین زبان میں آجائے گا۔پھر پور چوگیز زبان میں آجائے گا۔رشین زبان میں بھی Translation ہے۔جس کی Revision ہونے والی ہے۔اس کے لئے انتظام میں کر رہا ہوں۔میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ شدید تڑپ پیدا کی ہے کہ دس سال کے اندر اندر ہم فرانسیسی اور اٹالین اور سپینش زبان میں اور رشین زبان میں اور چائینیز زبان میں قرآن کریم کے ترجمے شائع کردیں۔اگر ہم ایسا کر سکیں تو دنیا کی آبادی کے قریباً اسی فیصد سے زیادہ لوگوں کو ہم قرآن کریم ان کی زبان میں دے سکتے ہیں۔تو دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے جو خواہش پیدا کی ہے، اس کو پورے کرنے کے بھی سامان پیدا کرے۔وقف جدید کو اپنے کام چلانے کے لئے پیسوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور دوست اس طرف توجہ بھی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے۔ان کی رپورٹ کے مطابق ۸۰-۱۹۷۹ء میں قریباً 99 ہزار کی بیشی ہے۔لیکن جو دفتر اطفال کہلاتا ہے یعنی چھوٹے بچوں کا رجسٹر بچے تو تعداد