خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 153
خطبات ناصر جلد نہم ۱۵۳ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۱ء تو وَ مَا دُعَاءُ الْكَفِرِينَ إِلا فِي ضَالِ کے مقابلے میں مومن کو یہ بشارت دی گئی کہ خدا دعائیں قبول کرے گا۔یہ انذاری پہلو مومن کے سامنے رکھا گیا کہ اگر دعا نہیں کرو گے خدا تمہاری پرواہ نہیں کرے گا اور ان دو چیزوں کے بعد حکم دیا گیا اُدعُونی دعا کرو مجھ سے، میں قبول کروں گا۔یہ پہلی بشارت ہے جو بشرى لِلْمُؤْمِنِينَ - بُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ کے ماتحت ملی۔دوسری بشارت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے کھول کر بیان کر دیا کہ جو مومن مسلم ہیں وحی کا دروازہ ان پر کبھی بند نہیں کیا جائے گا اور اس مسئلے کو سمجھانے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک اور اعلان کیا اور وہ اعلان یہ ہے کہ یہ کائنات جو ہےاس کی حیات ، انسان کے علاوہ کائنات کی حیات ،انسان کی روحانی حیات جو ہے اس معنی میں تو روحانی حیات کا ذکر نہیں مثلاً درخت ہے، مثلاً پانی ہے، مثلاً ہیرا ہے، مثلاً حیوانات ہیں وہ بھی زندہ ہیں نا اور مر بھی جائیں گے ایک وقت آئے گا ایسا تو ان کے متعلق بھی یہ کہا ہے کہ ہر آن میری وحی کے محتاج ہیں۔ایک چھوٹی سی شہد کی مکھی کو لو خدا کہتا ہے ( قرآن کریم میں آیا ہے ) اور عیسائی یاد ہر یہ ریسرچ نے اسے ثابت کیا ہے کہ بعض ایسے دن اس کی زندگی میں آتے ہیں کہ اڑھائی ہزار دفعہ ایک دن میں اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔وحی کے لفظ سے قرآن کریم نے اس چیز کو یاد کیا اور یہ کیوں بتایا ہمیں؟ کیا اس لئے کہ ہم کتوں اور سؤروں اور شہد کی مکھیوں سے بھی زیادہ ذلیل ہیں ، وہ انسان جو خدا تعالیٰ کے قرب کے لئے پیدا کیا گیا ہے وہ اتنا ذلیل؟ نہیں بلکہ اس لئے بتایا ہے کہ ان کو اگر ضرورت ہے تمہیں زیادہ ضرورت ہے ان کے لئے ہم نے وحی کے دروازے بند نہیں کئے تمہاری ترقیات میں روک پیدا کرنے کے لئے تم پر وحی کا دروازہ کیسے بند کر سکتے ہیں۔تو دوسری بشارت مومن کو دی گئی اللہ تعالیٰ ان سے ہمکلام ہوتا ہے لیکن ہم بھی بچے سے اس کے ذہن کے مطابق بات کرتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ تو سر چشمہ اور منبع ہے فراست اور عقل اور ذہانت کا ، وہ بچے سے اس کی زبان میں بات کرتا ہے۔۷۴ ء میں اس چیز نے اتنا اطمینانِ قلب پیدا کیا جماعت میں، ہر روز میں پانچ ، سات آٹھ ، نو گھنٹے ملاقات کرتا تھا صرف ان کو مسائل