خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 136
خطبات ناصر جلد نهم ۱۳۶ خطبه جمعه ۱۲ / جون ۱۹۸۱ء اور خلیفہ اور مجدد کے ذریعہ سے، جب ایک نسل ہدایت پر قائم ہوتی ہے تو ایک نسل کے بعد یا دوسری نسل کے بعد یا چوتھی نسل کے بعد پھر سے بدعات ان کی زندگی میں داخل ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔پھر ان کو جھنجوڑنے کی ضرورت پڑتی ہے پھر انہیں راہِ راست کی طرف لانے کی ضرورت پڑتی ہے۔پھر وہ جو ایمان باللہ کا دعویٰ کرنے کے ساتھ ساتھ شرک کی بہت سی راہوں کو بھی اختیار کر لیتے ہیں، شرک کی راہوں سے انہیں بچا کر خالص تو حید ان کی زندگی میں قائم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو بھیج دیتا ہے۔ایک زمانہ چھوٹا یا بڑا خالص نور کا خالص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا زمانہ، چودہ سو سال کا۔دیکھتے ہیں۔خالص اسلامی حسن کا ، خالص اسلام میں جو قوت احسان ہے اس کا ، خالص ایثار کا ، اطاعت کا ، فدائیت کا ، اللہ تعالیٰ کے عشق کا ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا نظر آتا ہے اور پھر رات آجاتی ہے۔پہلے خاموشی کے ساتھ چند ایک، پھر ان میں پھیلا ؤ ہوتا ہے۔پھر گرد جم جاتی ہے حسن پر، پھر اس گرد کو دور کرنے والا آتا ہے۔تو ایک زمانہ اصلاح کا ہے اور ایک زمانہ بدعات پر قائم ہونے کا۔اسلامی روح کو چھوڑ کر بے جان جسم کا زمانہ۔اور اس زمانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا یا زندہ کرنے کے لئے۔آپ کی اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھکتے ہوئے نئی زندگی پا کر ان لوگوں کو پھر سے زندہ کرنے کے لئے بدعات کو مٹانے کے لئے خالص اسلام کو قائم کرنے کے لئے۔یہ جو زمانہ ہے بدعات کا زمانہ جس کو اب میں کہوں گا اس میں رہنے والے، بسنے والے، وہ اب نیکی اور اصلاح پر اور سچائی پر اپنے آپ کو قائم رکھنے اور آنے والے کو کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے باپ دادا نے جو کہا وہ سچ ہے۔تمہاری ہمیں ضرورت نہیں۔پہلے ہر نبی کو یہ کہا گیا، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ہر بزرگ کو یہ کہا گیا۔حضرت امام حسین سے شروع ہو گیا یہ سلسلہ (علیہ السلام )۔ان پر کفر کا فتویٰ لگا، واجب القتل قرار دیئے گئے۔بڑا سخت محمد بن گیا ہے یہ شخص ، اس فتویٰ میں سیاسی اقتدار اور مذہبی غرور اور تکبر دونوں شامل تھے۔قاضی شہر کے بھی تھے اور علاقے کا گورنر بھی تھا اور بادشاہ وقت بھی تھا۔ان کو نہایت ہی ظالمانہ طریق پر قتل کر دیا گیا۔ان کے ساتھیوں کو، کم عمر نابالغ بچوں کو