خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 795
خطبات ناصر جلد هشتم ۷۹۵ خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۰ء کہا کہ اب تو بڑی پکی بات ہو گئی تم حضرت صاحب سے کہو کہ نام بدلیں لڑکے کی بجائے لڑکی۔اس نے کہا نہیں میں نے تو نہیں کہنا جو رکھ دیا بس رکھ دیا اور دو مہینے لیڈی ڈاکٹر ز اپنے پیشے اور مہارت اور تجربے کے گھمنڈ پر اور نئی تحقیق کی وجہ سے کہتی رہیں کہ اس کے پیٹ میں لڑکی ہے اور میں ابھی وہیں تھا اس کے بچہ پیدا ہوا اور وہ لڑکا تھا۔خدا تعالیٰ تو پیدائش سے پانچ گھنٹے پہلے بھی لڑکی کولڑ کا بنا سکتا ہے اور دلیل اس کی یہ ہے کہ پیدائش کے بعد بھی بہت ساے لڑکے لڑکیاں بن جاتے ہیں۔یہ اسی واسطے اللہ تعالیٰ کرتا ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ جو میری مرضی ہو وہ ہوتا ہے۔اسی واسطے ہوتا ہے۔سینکڑوں ہزاروں نشان اللہ تعالیٰ نے ہماری زندگی میں دے دیئے۔میں تو بڑا عا جز انسان ہوں لیکن جس کی غلامی میں آگیا اور جس کے دامن کو پکڑا مہدی کے ذریعے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کا اللہ تو عاجز نہیں ہے وہ تو بڑی طاقتوں والا، بڑے غلبہ والا ، اس نے تو ، ( تاریخ کو دیکھیں آپ ) ایک دنیا جہان کو تہ و بالا کر دیا اپنے نیک بندوں کے لئے ، چند ایک کے لئے بہتوں کے او پر اپنے غصہ کا اظہار کر دیا۔مگر انسان تو کسی پر غصہ نہیں کرتے ہم تو یہ دعائیں کرتے ہیں کہ اے خدا! اس زمانہ میں جیسا کہ تو نے کہا تیرا قہر کسی پر نازل نہ ہو۔سب کو تیرے جمال کے جلوے تیری وحدانیت کی طرف اور تیرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے آئیں اور دنیا ایک قوم بن جائے۔اے خدا ! ہماری زندگیوں میں بھی ایسے آثار ظاہر ہونے شروع ہو جائیں۔آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۲۷ ستمبر ۱۹۸۲ء صفحه ۲ تا ۵)