خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 773 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 773

خطبات ناصر جلد هشتم 22M خطبه جمعه ۳۱ را کتوبر ۱۹۸۰ء بنایا ہے کہ تدبیر کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ تو حمد کریں اور دعا کو انتہا تک پہنچا ئیں اور تد بیر کریں اور تدبیر کو انتہا تک پہنچائیں تا زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں اور زیادہ سے زیادہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنے والے ہوں تا زیادہ سے زیادہ ہمارے کاموں میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے اور زیادہ سے زیادہ اچھے بہتر نتائج ہمارے لئے اور بنی نوع انسان کے لئے نکالے۔یہ وقت آگیا ہے تو حید خالص کے قیام کا۔اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے دو بار بڑے ہی پیار کا اظہار کیا اور اس کی تعبیر میں نے یہ بھی کہ توحید باری کے قیام کا وقت آگیا اور توحید باری کے قیام کے لئے ہم نے انتہائی قربانیاں دینی ہیں اور اس کے لئے جماعت کو تیار ہونا چاہیے۔دودفعہ ہوا یہ واقعہ۔میں رات کے وقت آنکھیں بند کر کے توحید کا ورد کر رہا تھالا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ - اس حالت میں میں نے دیکھا کہ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ( الجمعة : ۲) آیا ہے نا۔ساری کائنات توحید باری کا ورد کرتی ہے تو میری آنکھیں بند تھیں اور میں نے دیکھا کہ ساری کائنات کا وردمیرے پاس سے Liquid پانی کی شکل میں بہتا چلا جا رہا ہے، آگے بڑھتا چلا جارہا ہے اور میرے کان آواز بھی اس کی گن رہے ہیں یعنی لا إِلهَ إِلَّا اللهُ آہستہ آہستہ اپنے دل میں میں کہہ رہا تھا اور یہی آواز کا ئنات کی میرے کان بھی سن رہے تھے اور میری روحانی آنکھیں دیکھ بھی رہی تھیں اور وہ ایک نہ ختم ہونے والا جس طرح سمندر ہو ہلکے انگوری رنگ کا اور وہ صوتی لہریں تھیں جو آگے بڑھ رہی تھیں یعنی ایک لہر آتی تھی لا إِلَهَ إِلَّا اللہ کی آگے بڑھ جاتی تھی ایک دوسری پیچھے پھر دوسری پیچھے عجیب کیفیت تھی مزے کی اور اس واسطے میں تو اپنے یقین پر قائم ہو گیا ہوں کہ دہریت، اشتراکیت آگئی نا جو سب سے بڑی دہریت ہے اور شرک جو ہزاروں قسم کا ہے اور جس میں ایک تثلیث بھی ہے اور خدا تعالیٰ سے دوری ، یہ سب زمانے ختم ہو کے توحید باری کا قیام نوع انسانی کی زندگی میں عنقریب اس صدی کے اندر جیسا کہ میں نے پہلے اعلان کیا قائم ہو جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ اور اسی چیز کو بتانے کے لئے وہ پیار، پیار کا جلوہ جو ہے وہ میں نے دیکھا اس پیار کو تو میں بیان نہیں کر سکتا ، اس احساس کو میں نے تھوڑا سا بیان کر دیا ہے تو دعا ئیں کریں اور تدبیر کو انتہا تک پہنچا ئیں اور اس تدبیر کا ایک حصہ تحریک جدید ہے جس کے نئے سال کا