خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 756 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 756

خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۵۶ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۰ء متعلق بعض لوگوں نے یہاں مشہور کر دیا تھا کہ ہر احمدی کو ہم نے اپنے جیسا مسلمان کر لیا ہے اور کوئی احمدی وہاں نہیں رہا۔وہاں جا کر دیکھا تو وہاں کی شان ہی کچھ اور دیکھی۔ایک شخص میرے پاس آیا وہاں ہمارا سکول کوئی نہیں۔کہنے لگا کہ آپ یہاں سکول کھولیں ہائر سکینڈری سکول ایف۔اے تک۔اور اس طرح باتیں کر رہا تھا کہ میں سمجھا کہ یہ ایسا مسلمان ہے، احمدی تو نہیں لگ رہا تھا وہ کہ جس کے دل میں بڑا درد ہے اور سمجھتا ہے کہ عیسائیوں کا یہاں سکول ہے تو یہاں مسلمانوں کا ہونا چاہیے تا کہ مسلمان بچے خراب نہ ہوں۔بعد میں میں نے پوچھا تو کہنے لگے یہ یہاں کا میئر تھا شاید اس ٹاؤن شپ کا اور خود عیسائی تھا اور عیسائیوں کا وہاں سکول ہے اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہاں اچھا سکول چاہیے۔سکولوں کی اتنی عزت وہاں جماعت احمدیہ کے سکولوں کی ہوگئی ہے۔غانا میں ایک دوسرا انقلاب ہے کثرت تعداد اور رعب کا یعنی اتنارعب وہاں غانا کے ملک میں جماعت احمدیہ کا پیدا ہو چکا ہے کہ جو بریف (Brief) باہر گئی ہے وہاں سے لوگوں نے جو بھیجی ہے اور جو وہاں دیکھا ہم نے حال وہ یہ سمجھ گئے ہیں کہ پہلے تو گئے تھے نا یہ عیسائی دوحصوں میں کیتھولک ازم (Catholicism) اور پروٹسٹنٹ (Protestant)۔تو آرچ بشپ آف کنٹر بری اور پوپ کی بڑی بڑی تصاویر جو ہیں وہ بعض جگہ انہوں نے لگائی ہوئی تھیں طبعاً اور اب پہلی بار اس دورے پر انہوں نے ان دو تصویروں کے ساتھ ایک تصویر کا اضافہ کیا اور وہ میری تصویر لگادی۔اب مجھے تو کوئی ضرورت نہیں اس تصویر کی کیونکہ میں تو اس حقیقت پہ قائم ہوں علی وجہ البصیرت کہ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ( النساء:۱۴۰) خدا تعالیٰ نے جو عزت مجھے عطا فرمائی ہے میں تو ، میرا ذرہ ذرہ میرے جسم کا اور میری روح کا ہر پہلو جو ہے وہ اس کی حمد پڑھتا رہے تب بھی میں حمد ادا نہیں کر سکتا لیکن یہ جماعت احمدیہ اور اسلام کی فوقیت وہاں ثابت کر دی خدا نے کہ وہ مجبور ہو گئے ایک عاجز انسان کی تصویر ان کے مقابلے میں لگانے کے لئے۔اور حکومت وقت اپنے اعمال سے ثابت کر رہی ہے کہ ہم انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے اس وقت جماعت احمدیہ کو۔انقلاب عظیم وہاں بپا ہو گیا۔اس کے علاوہ میں کینیڈا اور امریکہ گیا۔کینیڈ ابھی کئی ہزار میل ہے میرے سفر پہ یہ دیکھیں۔ویسے کام جب میں کر رہا ہوں اس وقت مجھے ایک ذرہ بھر بھی کوفت نہیں ہوتی جب کام ختم ہو جاتا