خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 691
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۹۱ خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۰ء تین تین سال وقف کئے۔میں نے ان سے کہا تم خدمت کے لئے جارہے ہو۔جاؤ ایک جھونپڑا ڈال کر کام شروع کر دو۔اور مریضوں کی ہر ممکن خدمت بجالاؤ۔میں ابتدائی سرمائے کے طور پر انہیں صرف پانچ سو پونڈ دیتا تھا۔انہوں نے اخلاص سے کام شروع کیا۔غریبوں سے ایک پیسہ لئے بغیر ان کی خدمت کی۔امراء نے وہاں کے طریق کے مطابق اپنے علاج کے اخراجات خود ادا کئے۔اب وہاں ہمارے ایسے ہسپتال بھی ہیں جن کی بچت تمام اخراجات نکالنے کے بعد ایک ایک لاکھ پونڈ سالانہ ہے۔دو سال کے اندر اندر سولہ ہسپتال کھولنے کی توفیق مل گئی۔پھر ان کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔اور اب تو میڈیکل سنٹروں کی تعداد چوبیس پچیس ہوگئی ہوگی وہاں لوگ ہمارے پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ ہمارے علاقہ میں بھی ہسپتال قائم کرو۔اسی طرح مغربی افریقہ کے ممالک میں پہلے یہ حالت تھی کہ مسلمانوں کا کوئی ایک پرائمری سکول بھی نہ تھا۔سارے سکول عیسائی مشنوں کے ہوتے تھے۔مسلمان بچے بھی انہی کے سکولوں میں پڑھنے پر مجبور تھے۔وہ براہ راست بائبل کی تعلیم دیئے بغیر ان کا عیسائی نام رکھ کر انہیں چپکے سے عیسائی بنا لیتے تھے۔جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے وہاں پرائمری، مڈل اور ہائر سیکنڈری سکول کھولنے کی توفیق دی۔اس طرح وہاں مسلمان بچوں کی تعلیم کا انتظام ہوا۔نصرت جہاں منصوبہ کے تحت سولہ نئے ہائر سیکنڈری سکول کھولنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔خدا تعالیٰ نے وہاں اس سے زیادہ تعداد میں سکول کھولنے کی توفیق عطا کر دی۔غلبہ اسلام کی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے مضبوط بنیادوں کی ضرورت تھی۔سو اللہ تعالیٰ نے نصرت جہاں منصوبہ کے تحت یہ بنیادیں فراہم کر دیں۔اب وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری اس خدمت کا اتنا اثر ہے کہ نائیجیر یا میں ہماری جماعت کے جلسہ سالانہ میں ملک کے صدر نے جس کا تعلق مسلم نارتھ سے ہے جو پیغام بھیجا اس میں جماعت کی خدمات کو سراہتے ہوئے لکھا کہ میں تمام مسلمان فرقوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ