خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 467
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۶۷ خطبہ جمعہ ۱۶ / نومبر ۱۹۷۹ء سے تھا۔معلوم ہوتا ہے اُتھو ( تشنجی کیفیت ) آیا ہے اور پھیپھڑوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔بہر حال حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی ایک تو بڑی اولاد تھی جو نواب مبار کہ بیگم صاحبہ ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صاحبزادی) کے بطن سے نہیں تھی۔تین لڑکے ، (لڑکوں کی میں بات کر رہا ہوں لڑکیوں کی نہیں) تین لڑکے تھے وہ تینوں پہلے فوت ہو چکے ہوئے ہیں۔حضرت نواب مبارکہ بیگم کے بطن سے دولڑ کے تھے۔ان میں سے یہ بڑے تھے اور یہ کل فوت ہو گئے۔بڑا مخلص، فدائی، درویش طبیعت رکھنے والا انسان تھا۔بچپن سے میں جانتا ہوں کیونکہ اکٹھے ہی ہم کھیلے ، تربیت حاصل کی اس ماحول میں اور بڑھے۔ان کا جنازہ انشاء اللہ تعالی نماز عصر کے بعد بہشتی مقبرہ میں ہی ہوگا۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وہ وارث بنیں۔جو آتا ہے اس نے جانا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (الملك : ۳) یہ زندگی اور موت جو ہے اس کا ایک مقصد ہے۔یہ امتحان ہے جس کے ساتھ انعامات بھی وابستہ ہیں اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی بھی۔تو دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانے والوں سے ناراض نہ ہو بلکہ خوش ہو اور جن کو اس نے ابھی یہاں رہنے کی اجازت دی ہے اس دنیا میں وہ بھی اس کے پیار کو حاصل کرنے والے ہوں۔بہر حال میں نے جنازے کا اعلان کرنا تھا اور دعا کرنے کے لئے کہنا تھا۔(روز نامه الفضل ربوه ۲۳/ دسمبر ۱۹۷۹ء صفحه ۲ تا ۶ )