خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 428 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 428

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۲۸ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۹ء جانے کی ضرورت نہیں۔بہر حال آج سے چودہ سال پہلے میں نے اس کا اعلان کیا۔اعلان اس لئے کیا کہ دفتر اول میں جو دوست شامل ہوئے ان کا اس لمبے عرصہ کے گزر جانے کی وجہ سے چندہ ، ان کی مالی قربانی اتنی نہیں رہی تھی کہ تحریک کے بوجھ کو وہ اٹھا سکیں اور ایک وقت ایسا آیا کہ جب تحریک جدید کا سا را چندہ قریباً ایک جگہ ٹھہر گیا اور ضروریات تو ہر سال بڑھتی ہی ہیں اور جماعت کا قدم تو ہر سال آگے ہی بڑھنا چاہیے اس وقت یہ بات ذہن میں آئی کہ دفتر سوم کا اعلان ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔وہ اعلان کیا گیا۔۶۶ء، ۶۷ء میں پہلی دفعہ دفتر سوم کا چندہ تحریک جدید کے چندہ میں شامل ہوا۔۶۶ ء، ۶۷ ء میں دفتر اول کا چندہ ایک لاکھ تریسٹھ ہزار تھا اور دفتر سوم کا پہلے سال کا چندہ پانچ ہزار دوسو ستاون ہوا۔کام شروع ہو گیا اور اس نے ترقی کرنی تھی۔آہستہ آہستہ پہلے سال اس طرف توجہ نہیں دی گئی دوستوں کو توجہ نہیں ہوئی۔کچھ لوگ دفتر دوم میں شامل ہوتے رہے جن کو تو جہ ہوئی اس طرف اور سال رواں یا پچھلے سال کہنا چاہیے یعنی ۷ ۷ ۶، ۷۸ ء میں دفتر اول کا چندہ ایک لاکھ تریسٹھ ہزار دوسو اٹھائیں سے گر کے ایک لاکھ اکیس ہزار تین سو اٹھہتر رہ گیا۔یعنی یہ نیچے جارہے تھے۔دوست فوت ہورہے تھے دوست پنشن پر جا رہے تھے بڑی عمر کی وجہ سے۔آمدنی میں کمی ہورہی تھی وہ اس قدر مالی قربانی نہیں دے سکتے تھے۔حصہ لینے پر بھی جو پہلے دیا کرتے تھے یا فوت ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے اللہ تعالیٰ انہیں اس کی احسن جزا دے۔دفتر دوم ۶۶۶، ۶۷ء کو پانچ ہزار دوسوستاون روپے سے شروع ہوا اور ۷۶ ء، ۷۷ء میں ایک لاکھ ستر ہزار ایک سو چورانوے تک پہنچ گیا یعنی جس وقت یہ شروع ہوا اس وقت دفتر اول کا چندہ تھا ایک لاکھ تریسٹھ ہزار اس سے دس ہزار سے بھی زیادہ رقم ۷۷، ۷۸ ء سے آنی شروع ہو گئی۔اس سال تو نہیں کیونکہ میں مشورہ نہیں کر سکا اور حالات کا جائزہ نہیں لے سکا۔سوچ اور غور اور فکر نہیں کر سکا اور دعا ئیں نہیں کر سکا اس لئے دفتر چہارم کا اعلان نہیں کروں گا لیکن یہ جو کھڑا ہو گیا تھا چندہ۔اس کے نتیجہ میں تحریک جدید کو اپنے کام میں دقتیں پیدا ہونی شروع ہوگئیں جس کو ایک حد تک دفتر سوم نے سنبھالا لیکن بعض ایسے ذرائع آمد تھے جو یک دم بند ہو گئے اور ان کی وجہ سے بہت دقت کا سامنا ہوا۔پھر میں نے جماعت کو