خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 308
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۰۸ خطبه جمعه ۳/اگست ۱۹۷۹ء لائیں تا کامیابی کی راہیں ان پر کھلیں اور ان کی دعائیں قبول ہوں۔ماه رمضان دعاؤں کا مہینہ ہے خاص طور پر۔روزے کے علاوہ ہم نوافل پر بھی خصوصا زور دیتے ہیں اس ماہ میں تراویح ہوتی ہیں وہ نوافل ہیں۔اصل تو یہ تھا کہ علیحدہ علیحدہ ہر شخص رات کی تنہائی میں اپنے رب کے حضور جھکتا اور اس سے دعائیں مانگتا لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں جب آپ نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے گھروں کی بجائے ( مجبوریوں کے نتیجہ میں ) مسجد نبوی میں آکر یا مسجد نبوی کی برکت کے حصول کے لئے تراویح پڑھتے ہیں تو آپ نے ان سب کو اکٹھا کر کے اور باجماعت یہ نوافل شروع کروا دیئے۔پس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں تراویح با جماعت شروع ہوئی۔انفرادی نوافل ( رات کے آخری حصہ میں پڑھنے میں ) اپنا ایک مزہ رکھتے ہیں لیکن جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں بہت سے وہ لوگ جو انفرادی طور پر اس رنگ میں نوافل ادا نہیں کر سکتے۔وہ لوگ جو قرآن کریم کا دور نہیں کر سکتے کیونکہ ان کو قرآن کریم حفظ نہیں، مسجد میں آکے ایک حافظ کے پیچھے وہ نماز پڑھتے ہیں اور پورے قرآن کریم کا دور بھی ہو جاتا ہے اور دعائیں بھی کر لیتے ہیں۔بہت سے دوست ہیں میں جانتا ہوں، جو مثلاً شروع رات میں جو با جماعت تراویح پڑھی جاتی ہیں اس میں بھی شامل ہو جاتے ہیں اور پھر آخری حصہ رات میں بھی خدا تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہوتے ہیں۔رمضان مبارک میں شروع رات میں تو بہت سے نوجوان اور بچے اور بہت سی مستورات بھی شامل ہو جاتی ہیں اس کے اپنے فوائد ہیں لیکن اصل چیز یہ ہے کہ دعاؤں کا عام دنوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ موقع ملتا ہے انسان کو اور قبولیتِ دعا کے لئے انسان اپنے رب کو راضی کرنے کی خاطر اور بہت ساری عبادتیں خاص طور پر اس ماہ میں دوسرے مہینوں کے مقابلہ میں زیادہ بجالاتا ہے۔مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آیا ہے کہ آپ بڑے سخی تھے لیکن رمضان کے مہینہ میں آپ کی سخاوت میں اتنی شدت پیدا ہو جاتی تھی کہ دوسرے مہینوں میں وہ شدت نہیں ہوا کرتی تھی۔غرباء کا خیال رکھنا نیز مسکینوں کا ، جونسبتا غریب ہیں ان کو سہارا دینا دعاؤں کے ساتھ ، ان کی دنیوی ضروریات کو پورا کر کے۔تو یہ مہینہ دعاؤں کا مہینہ ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چیخنے کی ضرورت نہیں میں دور تو نہیں