خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 178 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 178

خطبات ناصر جلد ہشتم IZA خطبہ جمعہ ۱۱ رمئی ۱۹۷۹ء اور مکمل شریعت لے کر آئے۔پہلوں نے بھی آپ ہی کی رحمت سے حصہ لیا اور آپ ہی کی تعلیم کا ایک حصہ ان کو دیا گیا اور اُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتب ( ال عمران : ۲۴) کا اعلان ہوا ہے قرآن کریم میں۔لیکن آپ کی بعثت کے ساتھ شریعت کے مخاطب کی شکل بدل گئی۔آپ سے قبل آپ ہی سے فیض پاکر انبیاء جو علیمیں دنیا کی طرف لائے وہ مختص الزمان بھی تھیں مختص المکان بھی تھیں اور مختص القوم بھی تھیں۔وہ ہمیشہ کے لئے نہیں تھیں وہ ساری دنیا کے لئے نہیں تھیں ، ساری قوموں کے لئے نہیں تھیں لیکن جب کامل شریعت انسان کے ہاتھ میں دی گئی تو شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے کمال کو پہنچی۔اليومَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدة: ٢) کا اعلان ہوا۔یہ مختص الزمان ہے، مختص المکان، ب مختص القوم ہر مکان کے لئے ، سارے ملکوں کے لئے ، ساری اقوام کے لئے اور ہر زمانہ کے لئے، قیامت تک کے لئے یہ شریعت ہے۔بنی نوع انسان نے آپ کی اس رحمت کے جلوے روحانی بھی اور مادی بھی ان لوگوں کے ذریعہ دیکھنے تھے جو آپ سے فیض یافتہ ہوتے تھے یعنی اُمت محمدیہ کا وہ گروہ و حصہ جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کرنا تھا اسی نے آگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض پہنچانا تھا۔اس لئے ہمیں کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ایک ایسی امت تربیت پائے گی جو اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : ) تمام انسانوں کی بھلائی کے لئے ہے اخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سے بھی یہ پتا لگتا ہے کہ انسان اپنی قوتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے معراج کو پہنچ چکے اور انہیں ایک کامل اور مکمل شریعت کی ضرورت تھی اور دوسرے یہ کہ وہ کامل اور مکمل شریعت قرآن کریم کی صورت میں نازل ہو چکی اور تیسرے یہ کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اپنے مقام کو پہچانیں گے اور قرآن کریم پر عمل کرنے والے ہوں گے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل متبعین، اس آیت کے مطابق جس میں کہا گیا تھا کہ خدا کے پیار کو حاصل کرنا ہے تو فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران (۳۲) میری اطاعت کرو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لو گے تو خدا تعالیٰ کے پیار کے جلوے بنی نوع انسان کو دکھانے لگ جاؤ گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے مظہر بن جاؤ گے۔