خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 280
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۸۰ خطبہ جمعہ ۱۱/ نومبر ۱۹۷۷ء ہے جس نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہر نفس کے اپنے کچھ حقوق ہیں اور ہر فرد کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان حقوق کی حفاظت کرے جن کو خدا تعالیٰ نے انسان کے نفس کے سلسلہ میں قائم کیا ہے۔دین اور مذہب اور اعتقاد اور ایمان کے متعلق قرآن کریم نے یہ اعلان کیا ہے :۔لَا يَضُرُّكُم مَنْ ضَلَّ إذَا اهْتَدَيْتُمُ (المائدة: ۱۰۲) کہ ہدایت پر قائم رہنے کی ذمہ داری ہر نفس کی اپنی ہے۔اسلام نے دوسرے کو ہدایت کا راستہ دکھانے کے لئے خود گمراہ ہو جانے کی اجازت نہیں دی۔پس اس سلسلہ میں پہلا فرض یہ ہے کہ انسان خود ہدایت پر قائم رہے اور پھر جو دوسرے عنوانوں کے ماتحت فرائض ہیں وہ آئیں گے مثلاً انسان کے جسمانی قوی ہیں ان کی حفاظت کے لئے جو حق قائم کیا گیا ہے وہ کھانے سے متعلق ہے۔فرمایا کھانا کھاؤ مگر طیب کھاؤ۔طیب کا لفظ عربی میں بڑے لطیف معنے پیدا کرتا ہے۔مختصراً میں اس وقت یہ کہوں گا کہ مناسب حال کھانا کھایا جائے مگر اس کی بہت لمبی تفصیل ہے اور یہ طیب کا لفظ ہی بتا رہا ہے کہ جسمانی قوتوں کی نشو و نما کی غرض یہ ہے کہ انسان پھرا اپنی ذہنی ، اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشو و نما میں ترقی کرتا چلا جائے۔یہ ایک سلسلہ قائم ہو جاتا ہے اور ساری چیزیں اس سلسلہ میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھ جاتی ہیں۔بہر حال اسلام نے نفس کے حقوق قائم کئے ہیں اور جو بھی حقوق قائم کئے ہیں وہ بڑے ہی حسین اور بڑے ہی کامل ہیں یعنی کامل نشو و نما کے لئے جن حقوق کو قائم کرنے کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو قائم کر دیا ہے اور ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کی اجتماعی زندگی کی ترقی کا انحصار ہر نفس کی ارتقائی زندگی کی حفاظت اور اس کی نشو و نما پر ہے۔اس سلسلہ میں جو تعلیم ہمیں دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جہاں تک نفس کے حقوق کی حفاظت کا تعلق ہے میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ ایک تو یہ کہا گیا ہے کہ تمہارے اوپر دوسرے کی ذمہ داری نہیں ہے۔تم دوسروں کے وکیل نہیں ہو اور دوسرے یہ کہا گیا ہے کہ تم میں سے کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے کے سامنے جواب دہ نہیں۔پس ان بنیادی باتوں سے نفس کے حقوق شروع ہوتے ہیں اور پھر بڑی خوبصورت اور حسین اور کامل وسعتوں میں پھیلتے چلے جاتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے میری طبیعت ٹھیک نہیں۔نزلہ اور کھانسی اور بخار کی کیفیت ہے اس لئے آج میں چند منٹ کے اس خطبہ پر اکتفا