خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 191
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۹۱ خطبہ جمعہ ۱۶ رستمبر ۱۹۷۷ء کے فیض ہیں انسان کے عمل کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے لیکن خدا تعالیٰ کی رحمت بارش کی طرح اس کے اوپر برس رہی ہے۔پھر رحیمیت ہے۔انسان کام کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کا نتیجہ نکالتا ہے لیکن بیبیوں آدمی کام کرتے ہیں مگر بے نتیجہ ہوتے ہیں۔مثلاً مشہور ہے کہ بعض لوگ مٹی کو ہاتھ لگا ئیں تو وہ سونا بن جاتی ہے اور بعض لوگ سونے کو ہاتھ لگا ئیں تو وہ مٹی بن جاتا ہے کیونکہ ان کے کام میں برکت نہیں ہوتی۔برکت تو آسمان سے آتی ہے۔چنانچہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اور کامل شریعت کے نزول کے بعد قرآن کریم کی تلاوت جو انسانی زندگی کا سب سے اہم کام ہے اسے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سے شروع کیا۔خدا تعالیٰ سے مدد چاہی قرآن کریم سیکھنے کی ، اسے سمجھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق پانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت تھی اس کے لئے دعا مانگی۔آج کا فلسفی بیوقوفی سے جاہلانہ طور پر بہت سے اعتراض کرتا ہے۔اس تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جاؤں گا میں اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک لمبا حوالہ پڑھ کر دوستوں کو بتا نا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ جو ہدایت کی ہے کہ ہر عمل خصوصاً ذی شان اعمال میں سے کوئی عمل کرنے سے پہلے خدا تعالیٰ سے مدد طلب کیا کرو تا کہ انسان اپنی کوششوں میں نا کام نہ ہو جائے ، اس لئے دوست اس حوالے کو غور سے سنیں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔پس صادق آدمی جس کے رُوح میں کسی قسم کے غرور اور عجب نے جگہ نہیں پکڑی اور جو اپنے کمزور اور بیچ اور بے حقیقت وجود پر خوب واقف ہے اور اپنے تئیں کسی کام کے انجام دینے کے لائق نہیں پاتا اور اپنے نفس میں کچھ قوت اور طاقت نہیں دیکھتا جب کسی کام کو شروع کرتا ہے تو بلاتصنع اس کی کمزور روح آسمانی قوت کی خواستگار ہوتی ہے اور ہر وقت اس کو خدا کی مقتدر ہستی اپنے سارے کمال و جلال کے ساتھ نظر آتی ہے اور اس کی رحمانیت اور رحیمیت ہر ایک کام کے انجام کے لئے مدار دکھلائی دیتی ہے۔پس وہ بلا ساختہ اپنا ناقص اور ناکارہ زور ظاہر کرنے سے پہلے بسم اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کی دعا سے امداد الہی چاہتا ہے۔پس اس انکسار اور فروتنی کی وجہ سے اس لائق ہو جاتا ہے کہ خدا کی قوت سے