خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 550
خطبات ناصر جلد ششم خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء ہے کہ یہ جزیرے اُبھرتے ابھرتے اس حال میں پہنچ جائیں گے کہ گندا پانی کم رہ جائے گا اور یہ جزیرے جو نیکی کے اور تقویٰ کے اور پاکیزگی کے اور خدا تعالیٰ کے پیار کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق کے اور بنی نوع انسان کی خیر خواہی کے جزیرے ہیں سارے علاقے میں پھیلے ہوئے ہوں گے۔جہاں تک اُن کی تعداد کا سوال ہے امریکہ میں بڑی تعداد میں احمدی نہیں ہیں۔وہاں ہماری تعداد اس وقت ۴۳ ہزار کے درمیان ہوگی اور وہ بھی بکھری ہوئی لیکن بڑی فعال جماعتیں ہیں اور بڑھ رہی ہیں ایک جگہ کھڑی نہیں۔بعض جگہ پر یس کا نفرنسز میں صحافی سوال کرتے تھے کہ امریکہ میں آپ کی کتنی جماعت ہے وہ علمی لحاظ سے بڑی تیز عقلیں رکھتے ہیں اس لئے ایک دوسرے کو یہ بتانے کے لئے کہ اُنہوں نے کوئی زیادہ ترقی تو نہیں کی۔میں ایسے سوالوں کا یہ جواب دیا کرتا تھا کہ بالکل درست ہے جب الہی سلسلوں کی ابتدا ہوتی ہے تو اس وقت سر نہیں گنا جایا کرتے اس وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ فضا کے اندر کیا تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔اس سے پہلے میرے ۱۹۶۷ء کے یورپ کے دورے میں ہالینڈ میں ایک پریس کانفرنس میں مجھ سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ ہالینڈ میں کتنے مسلمان آپ بنا چکے ہیں تو میں نے اُن کو یہ جواب دیا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھا دیا تھا کہ تمہارے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کی جو زندگی اس دنیا میں تھی اس سلسلہ میں گو ہما را اختلاف ہے میں اس میں نہیں پڑتا لیکن تمہارے نزدیک جتنا عرصہ وہ زندہ رہے ساری عمر میں جتنے عیسائی اُنہوں نے بنائے تھے اس سے زیادہ تمہارے ملک میں ہم مسلمان بنا چکے ہیں۔یہ جواب ایسا تھا کہ وہ حیران بھی ہوئے اور جو شوخی اُن کی آنکھ میں تھی کہ یہ کہیں گے تھوڑے ہیں تو اس طرح اسلامی تعلیم کا اثر زائل ہوگا اور ان کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ہماری جو پچھلی تاریخ ہے اور جو تاریخ ہماری آگے اُبھری ہے اور جس کے متعلق ہمیں بشارتیں دی گئی ہیں اور ہم علی وجہ البصیرت اُن پر ایمان لاتے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم عنقریب غلبہ اسلام کی صدی میں داخل ہونے والے ہیں اور یہ جو پندرہ سال اس صدی کے رہ گئے ہیں یہ اس لحاظ سے بڑے اہم ہیں کہ غلبہ اسلام کی صدی جو ہماری زندگی