خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 547 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 547

خطبات ناصر جلد ششم ۵۴۷ خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء بھی سلامتی اور امن کے ہیں۔اس لئے جماعت احمد یہ سلامتی اور امن کی تعلیم پر چلنے والی اور قانون کی پابند جماعت ہے۔مغربی افریقہ کے بعض ممالک میں ہماری بہت بڑی جماعتیں ہیں۔اُن کا اندازہ ہے میں نے تو اندازے نہیں کئے نہ ہی یہاں بیٹھے ہوئے اندازہ کر سکتا ہوں اور نہ آپ کر سکتے ہیں۔غانا کی جماعت کا اندازہ یہ ہے کہ غانا میں جس کی آبادی کم و بیش اتنی لاکھ ہوگی اور اس میں دس لاکھ سے زائد احمدی ہیں۔اسی طرح سیرالیون کی آبادی ۴۰ لاکھ کے لگ بھگ ہے اور وہاں کی احمدی آبادی چھ لاکھ کے قریب ہے۔اس شکل میں بڑی طاقتیں اُبھر رہی ہیں لیکن عوام کو بھی پتہ ہے اور حکومت کو بھی پتہ ہے کہ یہ جماعت قانون شکن نہیں ہے قانون کی پابندی کرنے والی جماعت ہے۔احمدی امن پسند لوگ ہیں بنی نوع انسان کے خیر خواہ ہیں دوسروں کو تکلیف پہنچانے والے نہیں اس لئے لوگ جماعت احمدیہ کا احترام کرتے ہیں۔ہوں گے دنیا میں بعض ممالک جو اس کو پسند نہیں کرتے ہوں گے یا احترام نہیں کرتے ہوں گے یا عقیدت کے جذبہ کے ساتھ اس مظاہرہ کو نہیں دیکھتے ہوں گے لیکن افریقہ کے جو ممالک ہیں اور دوسرے ممالک جو میں نے دیکھے ہیں اُن میں لوگ احمدیوں کا اتنا احترام کرتے ہیں مثلاً ۱۹۷۰ء میں جب میں نے مغربی افریقہ کا دورہ کیا تھا اس کے بعد اس چھوٹے سے عرصہ میں جو قریباً چھ سال کا ہے اس میں غانا میں دو انقلاب آچکے ہیں۔حکومت بدلی میرے آنے کے بعد اور پھر ایک فوجی انقلاب بپا ہوا اور فوجی انقلاب یعنی مارشل لاء کے متعلق آپ جانتے ہیں کہ کس طریق کا ہوتا ہے لیکن حکومتیں بدلتی ہیں اور آئے دن بدلتی رہتی ہیں لیکن حکومتوں کا رویہ جماعت احمدیہ کے تعلق میں ہمیشہ ہی اچھا رہا ہے جو بھی نئی حکومت آتی ہے وہ جماعت احمدیہ کے حق میں اچھی ثابت ہوتی ہے۔جب میں گیا تو ایک فوجی جرنیل وہاں کے صدر تھے اُن کے ساتھ جماعت کا بڑا اچھا تعلق تھا۔میرے ساتھ بڑے تپاک اور عزت سے پیش آئے اور جو اب وہاں کے صدر ہیں، وہ ہیں تو عیسائی لیکن جب بھی وہاں کے امیر عبدالوہاب بن آدم سے اُن کی بات ہوتی ہے تو مجھے پیغام بھجواتے ہیں۔کہتے ہیں حضرت صاحب کو لکھو میرے لئے اور میرے ملک کے لئے دعا کریں ان کی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔کچھ ایسے اثرات دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کی دعائیں