خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 169
خطبات ناصر جلد ششم ۱۶۹ خطبہ جمعہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۷۵ء طباعت ہو سکے اور ایسے رسالے شائع کئے جاسکیں جو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات یا اعتراضات کی تردید یا لوگوں کی غلط فہمیوں کے ازالہ پر مشتمل ہوں۔اگر دوسروں کی طرف سے غلط اور جھوٹے اعتراضات نہ کئے جائیں تو ہمیں ایسے رسالے لکھنے اور شائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ہمارا اصل کام تو دنیا کے سامنے اسلام کی صداقت کو پیش کرنا ہے۔ہمارے اور حقیقی اسلام کے خلاف غلط اعتراضات شائع کر کر کے ہمیں مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم ایسے رسالے بھی لکھیں۔دراصل دنیا دو حصوں میں بٹ گئی ہے ایک تو وہ لوگ ہیں جن کا انحصار صداقت پر ہے اور ایک وہ لوگ ہیں جن کا انحصار بہت حد تک جھوٹ پر ہے۔جب یہ مؤخر الذکر لوگ جھوٹ پر انحصار کرتے ہوئے ہمارے خلاف سراسر جھوٹی باتیں شائع کرتے ہیں تو پھر ہمیں یہ امر مجبوری ان کی تردید میں رسالے شائع کرنے پڑتے ہیں۔ہمیں اس کام میں گھسیٹا جاتا ہے ورنہ ہمارا اصل کام یہ نہیں ہے۔ہمارا اصل کام تو براہ راست صداقت کو پیش کرنا ہے۔ویسے اس جھوٹے پراپیگنڈے سے ہم قطعاً ہراساں نہیں ہوتے کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے صداقت نے کبھی شکست نہیں کھائی۔سچ ہی ہمیشہ کامیاب ہوا ہے اور ہمیشہ جھوٹ نے ہی بالآ خر شکست کھائی ہے۔ایسے لوگ جو جھوٹی باتیں پھیلاتے اور جھوٹ کی اشاعت کرتے ہیں ان کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ کتا بچے اور رسالے شائع کر کے ان کی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور انہیں خدا تعالیٰ کی امان کے نیچے لایا جائے۔بہر حال قرآن مجید اور اسلامی لٹریچر کی اشاعت کے لئے دو یا تین پر یسوں کا ہونا از بس ضروری ہے اور بعد کے حالات نے ان کی ضرورت کو اور بھی واضح کر دیا ہے۔یورپ میں تبلیغ اسلام کی مہم کو تیز کرنے کے سلسلہ میں بعض اور ضروری اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے حضور ایدہ اللہ نے فرمایا ہم نے پروگرام بنایا ہے کہ آئندہ پندرہ سال میں پانچ نئی مسجد میں یورپ کے مختلف ملکوں میں بنائی جائیں۔ایک مسجد اٹلی کے اُس حصہ میں تعمیر کرنے کا ارادہ ہے جو یوگوسلاویہ کے قریب ہے۔پھر جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا امیچور ریڈیو کلبز (Immature Radio Clubs) کا قیام اور دنیا بھر کے احمد یہ مشنوں میں ٹیلیکس کے