خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 732
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۳۲ خطبه جمعه ۱۱ اکتوبر ۱۹۷۴ء دور نہیں کر سکے گی تو فکر نہ کرو ہم نے رمضان کا مہینہ اس کے لئے مقرر کیا ہے اور ایک رمضان اور دوسرے رمضان کے درمیان کے گیارہ ماہ کی کوتاہیاں اور غفلتیں رمضان کی عبادات کے ذریعہ دور ہو جاتی ہیں بشرطیکہ خلوص نیت ہو اور انسان سارے کا سارا اپنے رب کے لئے ہوکر زندگی گزارنے والا ہو۔اپنی زندگی کو دوحصوں میں بانٹ کر ایک حصہ شیطان کو دینے والا اور دوسرا حصہ خدا کے حضور پیش کرنے والا نہ ہو کیونکہ پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جس کو تم نے میرے حصہ میں سے دیا ہے اسی کو جا کر سارا دے دو میری تمہیں اب ضرورت نہیں۔پس ہر نماز پہلی نماز اور اپنے درمیان کی غفلتیں اور کوتاہیاں دور کرتی ہے اور ہر جمعہ پہلے جمعہ اور اپنے درمیان کی کوتاہیوں اور غفلتوں کو (جو باقی رہ جاتی ہیں ) دور کرتا ہے اور ہر ماہ رمضان پہلے رمضان اور اپنے درمیان کے گیارہ مہینوں کی غفلتیں اور کوتاہیاں دور کرتا ہے۔یہ تو آپ نے فرمایا ہے لیکن آپ نے ایک اور وضاحت کی ہے اور عام طور پر لوگ اسے بھول جاتے ہیں۔یہ غفلتیں اور کوتاہیاں کبائر نہیں ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تک انسان، خدا کا بندہ کبائر سے اجتناب کرتا رہے اس وقت تک خدا تعالیٰ اس کو یہ توفیق دے گا مثلاً نماز کو ترک کر دینا کبائر میں سے ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایک رمضان اور دوسرے رمضان کے درمیان کے یہ کبیرہ گناہ کہ نماز کو اس نے ترک کیا معاف نہیں ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ معاف نہیں ہو گا۔جو ایسا نہیں سمجھتا وہ بدعت کا عقیدہ رکھتا ہے اور بدعت کا عمل کرتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس عرصہ میں اگر زکوۃ تم پر واجب ہوتی ہے اور جو خدا کی راہ میں زکوۃ نہیں دیتا اور خدا کے حکم کو ٹالتا ہے وہ کبائر کا ارتکاب کرنے والا ہے اور یہ بالکل معاف نہیں ہو گا۔رمضان اور رمضان کے درمیان اگر کوئی شخص کبائر کا مرتکب ہوا ہے تو رمضان کی دعائیں، رمضان کی برکتیں، رمضان کی رحمتیں ، رمضان میں اللہ تعالیٰ کا بندہ کے قریب ہو جانا۔یہ وعدہ کرنا کہ رمضان کی تمہاری عبادات کے نتیجہ میں میں ایک خاص جزا دوں گا۔میں ہوں تمہاری جزا اتنی بڑی بشارت کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غلط فہمی میں نہ رہنا۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم کبائر کے مرتکب ہوتے رہو اور اللہ تعالیٰ تمہیں