خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 636
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۳۶ خطبہ جمعہ ٫۵جولائی ۱۹۷۴ء کی نماز کے بعد ہوں گی۔اس لئے جو دوست ملاقات کرنے سے رہ گئے ہیں وہ فکر مند نہ ہوں۔تاہم جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اکثر دوستوں سے ملاقاتیں ہو گئی ہیں جو پاکستان کے اکثر حصوں سے آئے ہوئے تھے۔اور اُن سے باتیں کر کے حالات معلوم ہوئے اور صورتِ حال نمایاں ہوکر ہمارے سامنے آ گئی۔آج صبح بھی میں نے قریباً اڑھائی گھنٹے تک اسی قسم کی انفرادی ملاقاتیں کیں (انفرادی ملاقاتوں کا مطلب صرف ایک فرد کی ملاقات ہی نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ دو چار آدمیوں کی اکٹھی ملاقات بھی انفرادی ملاقات ہی کہلاتی ہے ) اور پھر اس کے بعد امرائے اضلاع کی میٹنگ ہوئی اور اس طرح انفرادی اور اجتماعی ملاقاتوں کے ذریعہ حالات سامنے آگئے۔امرائے اضلاع کو میں نے جو نصیحتیں کی ہیں اور اُن کو اپنے اپنے ضلع کے ہر احمدی کے ذہن نشین کرانے کی جو ہدا یتیں دی ہیں، وہ میں اس خطبہ جمعہ کے ذریعہ ساری جماعت کے سامنے بھی رکھنا چاہتا ہوں تا کہ ان نصیحتوں سے پاکستان والے بھی اور پاکستان سے باہر والے احمدی دوست بھی فائدہ اُٹھا ئیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم ملکی قانون کی پابندی کریں اور قانون شکن نہ بنیں۔اس لئے ہر شہری کا یہ فرض ہے اور ہر شہری ہونے کے لحاظ سے ہر احمدی مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ ملکی قانون کا پابند ہو اور قانون شکنی نہ کرے۔اس لئے جہاں جہاں بھی احمدی بستے ہیں، انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انہیں پوری توجہ کے ساتھ اور پوری ہمت کے ساتھ ملکی قانون کی پابندی کرنی پڑے گی اور قانون شکنی سے بہر حال بچنا ہو گا۔صرف اس لئے نہیں کہ ہر شہری کا یہ فرض ہے بلکہ اس لئے بھی اور زیادہ تر اسی لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ فرمایا ہے کہ خواہ حالات کیسے ہی جوش دلانے والے اور غصہ دلانے والے ہی کیوں نہ ہوں ، تم نے قانون شکنی نہیں کرنی۔ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ تم اپنے جوش کو ٹھنڈا کرو۔اپنے غصہ کو دباؤ اور قانون کا احترام اور پابندی کرو۔دوسرے جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے انفرادی ملاقاتوں سے یہ بات بڑی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں بہت سی جگہوں پر حکومت کے افسران نے فرض شناسی سے کام لیا