خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 499 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 499

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۹۹ خطبہ جمعہ ۱۵ / مارچ ۱۹۷۴ء کہ اسلام پھر دُنیا میں غالب آئے ، ناکام ہوگی اسلام غالب آئے گا انشاء اللہ۔اور احمدیت خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرے گی۔انشاء اللہ۔اس کے راستہ میں کوئی روک نہیں ہے چند دنوں میں آپ نے یہ نظارہ دیکھا۔آپ میں سے بھی کئی ہوں گے جو یہ سمجھتے ہوں گے کہ اڑھائی کروڑ کی اپیل کر دی ہے۔اتنی بڑی مالی قربانی تو شاید یہ جماعت نہ دے سکے لیکن ایسے بھی تھے جنہوں نے مجھے یہ پیغام بھیجے۔اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے کہ آپ نے تھوڑی قربانی مانگی ہے اڑھائی کروڑ سے بہت زیادہ مانگنی چاہیے تھی۔اپنے عمل سے انہوں نے ثابت کیا کہ جو کہا گیا تھا وہ بھی دیا ( یعنی اڑھائی کروڑ کے وعدے کر دیئے ) اور جو امید ظاہر کی گئی تھی کہ پانچ کروڑ تک پہنچ جائے گا اُس خواہش کو بھی پورا کر دیا اور اس اصول کو بھی عملاً ظاہر کر دیا جو اللہ تعالیٰ کا ایک اصول ہے۔ایک بنیادی چیز ہے، بنیادی سلوک ہے اس کا ہمارے ساتھ کہ جتنی ضرورت ہوتی ہے اُتنا وہ سامان کر دیتا ہے۔اس لئے میں نے پچھلے خطبہ میں لاہور کی جماعت سے کہا تھا۔لاہور میں میں نے خطبہ دیا کہ دراصل تو اڑ ہائی کروڑ یا پانچ کروڑ کا سوال نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کے علم غیب میں غلبہ اسلام کے لئے ان پندرہ سالوں میں بیس کروڑ کی ضرورت ہوئی تو اللہ تعالیٰ اپنے علم غیب کے نتیجہ میں جتنی بھی ضرورت ہوگی وہ تمہیں دے دے گا اور اس کے راستہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکے گی لیکن جو ہماری ذمہ داری ہے جس کی طرف میں بار بار توجہ دلاتا ہوں وہ یہ ہے کہ فخر نہ پیدا ہو، غرور نہ پیدا ہو، تکبر نہ پیدا ہو، سر ہمیشہ زمین کی طرف جھکے رہیں تا کہ وہ حدیث ہمارے حق میں بھی پوری ہوجس میں کہا گیا تھا کہ جب خدا کا ایک مخلص بندہ عاجزی اختیار کرتا ہے اور تواضع کی راہوں پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ ساتویں آسمان تک اُس کی رفعتوں کا سامان کر دیتا ہے۔ساتویں آسمان تک پہنچ کر بھی ہمارا دل خوش نہیں بلکہ اس سے بھی بلند تر اور ارفع جو چیز ہے یعنی خدا تعالیٰ کا پیار وہ ہمیں ملنی چاہیے اس میں یہی اشارہ ہے کہ تمہاری کوشش کے نتیجہ میں ساتواں آسمان تمہیں ملے گا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نتیجہ میں اس کا ثواب جو کوشش سے زیادہ ملا کرتا ہے یعنی اُس کی رضا وہ تمہیں مل جائے گی۔پس ہم تو خدا کے پیار کے بھوکے ہیں اور ہمارے دل میں تو یہ خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ کی