خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 360
خطبات ناصر جلد پنجم ٣٦٠ خطبہ جمعہ ۹ نومبر ۱۹۷۳ء جماعتیں اتنی قربانی دینے لگی ہیں کہ بعض دفعہ شک ہوتا ہے کہ کہیں قربانیوں میں وہ مرکز کی جماعتوں سے آگے نہ نکل جائیں۔پھر جتنی وسعت ملک سے باہر پیدا ہوگی اسی نسبت سے اس سے کہیں زیادہ وسعت اور استحکام اور مضبوطی اور بنیادوں میں پھیلا ؤ ہمارے ملک میں مرکز میں ہونا چاہیے۔اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سامان پیدا کرتا ہے۔اس کے لئے بھی آپ قربانیاں دیں اور میں تو اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے والا نمبر ایک ہوں۔ہم اس کی راہ میں قربانیاں دیں گے۔کیونکہ ایک فرض انفرادی ہوتا ہے اور ایک عہدہ کے لحاظ سے فرض ہوتا ہے۔ہر احمدی پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔لیکن احمدی عہدیداروں پر اپنی ذمہ داریاں ہیں۔عہدے کے لحاظ سے وہ ہر فر د جماعت کی ذمہ داریوں سے مختلف ہیں وہ بھی ایک ذمہ داری ہے اور جو امام اور خلیفہ وقت ہوگا اس کی سب سے بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس شخص کا خلیفہ اور نائب ہے جس کی زبان سے یہ کہلایا گیا ہے اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ (الانعام: ۱۶۴) وہ اوّل ہونے کے لحاظ سے قربانیاں دینے میں بھی اول ہے اور مجھ سے پہلوں نے بھی قربانیاں دیں اور ہم بھی ہر وقت تیار ہیں۔جس قسم کی قربانی کی بھی ضرورت ہوگی اس میں اول نمبر تمہارا۔امام ہو گا۔ہم سائق نہیں قائد ہیں۔آگے جا کر آپ لوگوں کو پیچھے دوڑانے والے ہیں کہ آؤ خدا کی راہ میں یہ قربانیاں دیں۔اور جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بشاشت کے ساتھ قربانیاں دیتی ہے جس قسم کی بھی قربانیاں اللہ تعالیٰ ہمارے ملک میں یا دوسرے ملکوں میں لینا چاہتا ہے تو جماعت خدا کے فضل سے تربیت یافتہ ہے اور ایثار پیشہ ہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں خلیفہ وقت اور امام وقت کی قیادت میں ہر قربانی دینے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہے اور عملاً اس کے نمونے وہ پیش کر رہی ہے جو مطالبہ کیا جاتا ہے اسے پورا کر رہی ہے۔تحریک جدید کی مہم کے لئے بھی غیر ممالک زرمبادلہ جمع کریں گے ہم یہاں سے روپیہ نہیں دے سکتے۔کتا بیں بھجوا سکتے ہیں۔مبلغ بھجوا سکتے ہیں۔مبلغوں کے قیام پر خرچ کر سکتے ہیں۔لیکن زرمبادلہ کی شکل میں ہم باہر رقم نہیں بھجوا سکتے۔اس وقت میں موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بیرون پاکستان کی احمدی جماعتوں کو بھی اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے کم از کم دومشن ایسے ہیں جہاں کی مسجد میں مرمت طلب ہیں اور ان پر میرے اندازے کے مطابق دس ہزار پاؤنڈ کے