خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 404 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 404

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۰۴ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء راہوں کو تلاش کرنا ہے پھر فرمایا جس شخص نے خدا تعالیٰ سے طاقت حاصل کرنی ہو اس کے لئے دو باتیں ضروری ہیں ایک تسبیح کرنا اور دوسرا تحمید کرنا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِي وَالْإِبْكَارِ تم شام اور صبح کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بھی کرتے رہو اور حمد بھی کرتے رہو۔ہمارا بھی یہی محاورہ ہے اور دوسرے ملکوں کا بھی یہی محاورہ ہے کہ جب اس قسم کا مفہوم ادا کرنا ہو تو ہم کہتے ہیں صبح و شام ایسا ہوتا ہے اس آیت میں یہ ترتیب بدل دی گئی ہے فرما یا تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرو بِالعَشِي وَالإِبْكَارِ شام کے وقت بھی اور صبح کے وقت بھی دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی مجاہدہ یعنی غلبہ اسلام کے لئے جو جد و جہد کی جاتی ہے اس کی حرکت اندھیروں سے روشنی کی طرف تھی۔روشنی سے اندھیروں کی طرف نہیں تھی۔اس میں ایک لطیف اشارہ پایا جاتا ہے ایک تو وہ رات ہے جو سورج کے غروب ہونے پر دھند لکے سے شروع ہوتی ہے اور ایک اس وقت کی رات ہے جس وقت مسلمانوں کو روشنی نظر نہیں آرہی تھی ان کو تکالیف کا سامنا تھا۔ان پر ظلم و ستم ہو رہے تھے ، کفر نے ان کی ترقی کے راستے میں روکیں پیدا کی ہوئی تھیں۔پس اسلام کے غلبہ کے لئے مسلمانوں کی جدو جہد نشاۃ اولی میں بھی ظلمت سے نور کی طرف تھی اور نشاۃ ثانیہ میں بھی ظلمت سے نور کی طرف ہے۔اس لئے الْعَشِيِّ پہلے کہا گیا ہے اور الابكار بعد میں کہا گیا ہے آیت کے اس حصے میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر تمہاری یہ حرکت قائم رہے تو جس طرح مثلاً زمین کی حرکت قائم رہتی ہے۔عشی کے بعد صبح کا آنا یقینی ہے اسی طرح اگر تمہاری جد و جہد اور تمہاری قربانیاں اور ایثار بھی قائم رہے گا تو جس طرح رات کے اندھیروں کے بعد صبح صادق کا طلوع یقینی ہے اسی طرح تمہاری تکالیف کے بعد تمہاری کامیابی اور غلبہ اسلام بھی یقینی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل سے ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کی تسبیح وتحمید کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور کامل اور قوی فطرت کے ساتھ اپنی مجاہدانہ ذمہ داریوں کو ادا کریں اور دلائل قاطعہ اور آسمانی نشانوں