خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 290
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۹۰ خطبہ جمعہ ۷ / جولائی ۱۹۷۲ء میں۔اسے انگریزی دان طبقہ میں پہنچا دینا چاہیے۔غرض یہ قرآن کریم شائع ہو چکے ہیں۔اب ان کی اشاعت کی ذمہ داری جماعت پر عاید ہوتی ہے۔ہمارے ملک میں بھی تھوڑی یا بہت اشاعت ہو سکتی ہے۔اپنا پریس لگ گیا تو بیرونی ملکوں کا شکوہ بھی دُور کرنا ہے۔انشاء اللہ جرمن اور ڈچ زبانوں میں بھی تراجم کے نئے ایڈیشن شائع ہوں گے اور وہاں لاکھوں کی تعداد میں بھجوائے جائیں گے۔آپ دعا کریں کہ اگلے پانچ سال میں امریکہ دس لاکھ قرآن کریم کا خریدار بن جائے اور اس طرح ہم اس کی آمد سے مزید قرآن کریم شائع کر کے افریقہ میں مفت تقسیم کروا دیں۔پھر تو انشاء اللہ بہت کام ہو جائے گا۔افریقہ کے بعض ملکوں میں فرانسیسی ترجمہ قرآن کریم کی بڑی مانگ ہے، اس کے لئے بھی دوست دعا کریں کہ جلدی تیار ہو جائے۔دوست یادرکھیں میں پھر دُہرا دیتا ہوں کہ آپ کی ذمہ داری اشاعت ہدایت نہیں بلکہ تکمیل اشاعت ہدایت ہے اور یہ بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔اس کیلئے جہاں دوسری سکیموں پر آپ نے عمل کرنا ہے وہاں میری آپ کو یہ بھی ہدایت ہے کہ آپ میں سے ہر آدمی اپنے دوست بنائے۔میرا یہ تجربہ ہے کہ جو آدمی آپ سے ایک دفعہ مل لیتا ہے وہ جب آپ سے دوبارہ ملے تو وہ بدلا ہوا انسان ہوتا ہے کیونکہ اُس نے ہمارے خلاف بہت کچھ جھوٹ سنا ہوتا ہے لیکن جب وہ ہم سے ملتا ہے تو ہمارے ملنے میں ہمارے اخلاق میں اور ہماری ذہنیت میں اُسے بالکل برعکس چیز میں نظر آتی ہیں۔اس تضاد پر اُسے ایک اچھا خاصہ شاق پہنچتا ہے۔وہ ہل جاتا ہے وہ کہتا ہے میں نے احمدیوں کے متعلق کیا ئنا تھا اور اب دیکھ کیا رہا ہوں۔پس احباب جماعت کو چاہیے کہ وہ غیر از جماعت دوستوں سے ملتے رہیں۔اس میں کبھی سستی نہ کریں۔ہر سال دس نئے دوست بنا ئیں اور ان کے ہاتھ میں قرآن کریم کی کا پیاں پکڑا دیں۔اس وقت میرے سامنے ماشاء اللہ سینکڑوں دوست بیٹھے ہوئے ہیں اگر اس اصول پر عمل کریں تو دو چار ہزار تو یہی تقسیم کر سکتے ہیں۔بعض دوستوں کے متعلق مجھے علم ہے کہ وہ ماشاء اللہ سوسو کا پیاں بھی تقسیم کرتے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر زید سو کا پیاں تقسیم کر سکتا ہے تو پھر بکر بھی