خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 398 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 398

خطبات ناصر جلد سوم ۳۹۸ خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۷۰ء ڈالی ہے ، وہاں دعا بھی اس کا بڑا ہی مفید ذریعہ ہے اور اسے انسان چھوڑ نہیں سکتا اور سچی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرنا انسان کے لئے ممکن نہ ہوتا اگر خود وہ ہمیں اپنے فضل سے اور اپنے مقرب بالا رادہ ہونے سے اپنے وجود کا پتہ نہ دیتا وہ ہم سے پیار کرتا ہے اور اس کا اظہار کرتا ہے اپنے قول سے، اپنے فعل سے ایک خوابیدہ روح کو بیدار کر دیتا ہے اور ایک عقلمند کو مجنون بنادیتا اور مست کر دیتا ہے قرب اور حسن کا یہ جلوہ پیار کے یہ الفاظ کیسے انسان حاصل کرے؟ کیونکہ اس کے بغیر تو زندگی زندگی نہیں فرمایا مجھ سے مانگو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا اور اس طرح میں تمہیں عمل صالح کی توفیق عطا کروں گا۔ابھی جو میں نے آیت پڑھی ہے اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ استجابت دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کی قدرت اور اس کے جلال کا مشاہدہ کر کے انسان اعمال صالحہ بشاشت سے ادا کرتا ہے اور اس کی وہ توفیق اپنے رب سے پاتا ہے اور اپنے ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی معرفت انسان کو حاصل نہ ہو، اگر کچھ وہ اللہ کا اور کچھ دنیا کا ہو، تو پھر وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو کیسے پاسکتا ہے۔نہ اعمالِ صالحہ ہوں گے جیسا کہ خدا چاہتا ہے کہ ہوں اور نہ ایمان میں وہ تازگی اور بشاشت ہوگی جو خدا چاہتا ہے کہ پیدا ہو فرمایا میں تمہاری دعاؤں کو اس لئے قبول کرتا ہوں کہ تم بشاشت سے اعمالِ صالحہ بجالاؤ تاکہ تمہارے ایمان اور بھی مضبوط ہوں اور معرفت میں اور بھی ترقی کرو اور یہ کہ وہ رشد و ہدایت جس کے حصول کے لئے وہ راستہ جس کی انتہا میرا قرب ہے اس پر چلنے کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے تم اس رشد و ہدایت کو پاؤ اور تم اس راہ پر چلتے ہوئے مجھ سے قریب سے قریب تر ہوتے چلے جاؤ تو استجابت دعا کے نتیجہ میں اعمالِ صالحہ کی توفیق انسان کو حاصل ہوتی ہے۔اور بھی راستے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا لیکن یہ بھی ایک حسین اور روشن راستہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے انسان کو بے پرواہ نہیں ہونا چاہیے۔انسان کو یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ میں خدا سے دوری کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے بھی اس کے قرب کو حاصل کرلوں گا اس تصور اور اس خواہش کے درمیان تضاد ہے انسان کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ اللہ کی مدد کے بغیر خود اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہے