خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 189 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 189

خطبات ناصر جلد سوم ۱۸۹ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۷۰ء نظر آتی ہے۔ایک سپین ہے وہاں ابھی تک Catholicism( کیتھولک ازم) کا Hold ہولڈ ) ہے اور کسی وقت تو اتنی سخت گرفت تھی کہ وہ دوسرے عیسائی فرقوں کو گرجے اور دوسری عبادت گاہیں بنانے کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ابھی چند سال ہوئے انہوں نے کچھ نرمی کی ہے۔ہمارا ڈرائیور پروٹسٹنٹ تھا وہ بڑے غصے سے کہتا تھا کہ ایسے بار بیرین دنیا میں کبھی پیدا نہیں ہوئے کیونکہ ان پر انہوں نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔بہر حال کیتھولکس عیسائیت کا ایک فرقہ ہے اور سپین میں اس کا قوم پر کچھ نہ کچھ Hold ( ہولڈ ) ہے۔اس کے علاوہ جنوبی امریکہ ہے وہاں بھی پین اور پرتگال کے لوگ گئے ہوئے ہیں اور وہاں یہی سپینش زبان بولتے ہیں اور غالباً اسی وجہ سے ان کے دماغ پر بھی اور ان کی زندگیوں پر بھی عیسائی مذہب کا ایک حد تک Hold ( ہولڈ) ہے لیکن آج دنیا میں عیسائیت کی دوسرے مذاہب سے جو جنگ ہو رہی ہے اس میں پین کا اگر کوئی حصہ ہے تو بہت معمولی اور جنوبی امریکہ کا غالباً کوئی حصہ نہیں ہے۔شاید کچھ پیسے وغیرہ ان سے لے لیتے ہوں گے۔اس جنگ میں وہ اس طرح شریک نہیں کہ وہ فرنٹیئر یعنی محاذ پر آکر اسلام کے مقابلے میں کھڑے ہوں۔پادری ابھی یورپ سے ہی جارہے ہیں مثلاً بلجیم، ہالینڈ، اٹلی اور فرانس ہیں۔یہ عیسائیت کی پاکٹس رہ گئی ہیں۔ان ملکوں کی اکثریت تو میرے نزدیک عیسائی نہیں رہی لیکن بہر حال ان ممالک میں عیسائیت کی سٹرانگ پاکٹس ہیں۔وہاں افریقہ میں ان ملکوں کے پادری جار ہے ہیں ممکن ہے کچھ سپین کے بھی ہوں۔فکر اور تدبر کرنے والے عیسائی پادری میرے نزدیک اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ ان کا اسلام کے ساتھ آخری معرکہ افریقہ میں ہے اور اب وہاں بڑا زور دے رہے ہیں۔انگلستان میں گرجے برائے فروخت اور افریقہ میں نئے گرجے بنوا ر ہے ہیں۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی توجہ کا مرکز اس وقت انگلستان یا یورپی ممالک نہیں بلکہ افریقہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت مختلف عیسائی پادریوں کی جو بین الاقوامی کانفرنسیں ہوا کرتی تھیں ان میں وہ بیان دیا کرتے تھے ( اور وہ چھپے ہوئے ہیں ہمارے پاس ان کے حوالے موجود ہیں ) کہ افریقہ