خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 799 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 799

خطبات ناصر جلد دوم ۷۹۹ خطبہ جمعہ ۸ راگست ۱۹۶۹ء کرو تمہاری آواز اور گدھے کی آواز میں کوئی فرق انسانی فطرت محسوس نہیں کرے گی پس اگر تم نے انسان بن کر اس دنیا میں زندگی گزارنی ہے اگر تم نے انسان کی خصلتوں کو حاصل کر کے گدھے سے اپنے آپ کو ممیز اور ممتاز کر لینا ہے تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے نفس کی آفات کو پہچانتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ نے نفس انسان کے لئے جو فضائل کے حصول کے مواقع رکھے ہیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ کی نگاہ میں خوبصورت بنوا اور اللہ کی نگاہ میں محسن بنو۔وہ حسن جو اللہ کی نگاہ انسان کے اندر دیکھتی ہے اور دیکھنا چاہتی ہے اور وہ احسان جو اللہ کی نگاہ انسان کے اندر دیکھتی ہے اور دیکھنا چاہتی ہے اگر تم نے اس حسن اور اس احسان کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیا تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں گدھا سمجھ کر ذلیل نہیں کرے گی ،تمہیں گدھا سمجھ کر حقیر قرار نہیں دے گی تمہیں گدھا سمجھ کر غیر انسانی سلوک تم سے نہیں کرے گی۔خدا کرے کہ ہم سب اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انسان بن جائیں اور خدا کرے کہ ہم اس کے فضل سے یہ توفیق پائیں کہ اپنی آئندہ نسل کو بھی انسان کے اس نور سے منور کرنے کی توفیق پائیں کہ جو انسان کو دوسری مخلوق سے ممیز کر دیتا ہے۔ویسے تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہر مخلوق میں خدا کی صفات کے جلوے ہیں اور ایک رنگ کی روشنی جو صفات الہی سے الگ نہیں کی جا سکتی وہ ان میں پائی جاتی ہے لیکن جو نور خدا انسان کو عطا کرنا چاہتا ہے وہ نور اس نے غیر مخلوق کو نہیں دیا اور نہ وہ دینا چاہتا ہے نہ یہ ممکن ہے کہ غیر انسان کو وہ نور مل جائے پس جس نور کے حصول کے لئے اس نے انسان کو پیدا کیا خدا کرے کہ ہمیں بھی اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھی وہ نور خدا کے فضل اور رحم سے مل جائے۔اللھم آمین۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )