خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 728 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 728

خطبات ناصر جلد دوم ۷۲۸ خطبہ جمعہ ٫۴جولائی ۱۹۶۹ء سے ملنا ایک بہت بڑا خلق ہے کوئی گالیاں بھی دے رہا ہو تو اس کا کوئی اثر نہیں لینا چاہیے اگر ایک سپاہی کی یہ خوبی ہے کہ گولیوں کی بوچھاڑ میں وہ آگے ہی آگے بڑھ رہا ہوتا ہے اور قوم اس پر فخر کرتی ہے تو ایک مسلمان احمدی کی بھی یہ شان ہے کہ گولیوں سے زیادہ گالیاں اسے مل رہی ہوتی ہیں لیکن وہ اسی طرح مسکرارہا ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو بچانا چاہے تو گولیاں بھی کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں اس لئے یہ گالیاں میرا کیا بگاڑ لیں گی۔لاہور میں کالج کی طالب علمی کے زمانہ میں ایک دفعہ قادیان جاتے ہوئے امرتسر تک ایک ایسا شخص میرا ہمسفر تھا جس نے مجھے بے نقط سنانی شروع کر دیں۔میں مسکرا کر اس سے باتیں کرتا رہا اور وہ مجھے گالیاں دیتا رہا۔میں مسکرا کر اسے جواب دیئے جاؤں اور وہ مجھے گالیاں دیئے جائے یہاں تک کہ امرتسر آ گیا جب میں وہاں اُتر ا تو اس سے رہا نہ گیا اور بے اختیار کہنے لگا کہ اگر سب آپ کی طرح تبلیغ کریں تو آپ ہمیں بہت جلد اپنے ساتھ ملالیں گے۔میں جان کر آپ کو گالیاں دے رہا تھا ( کچھ تو اس کی عادت بھی معلوم ہوتی تھی لیکن بعض مخالف بھی بڑے شریف معلوم ہوتے ہیں وہ ایسی بات منہ پر نہیں لاتے ) اور میں آزمانا چاہتا تھا کہ آپ کے اندر قوتِ برداشت کتنی ہے۔میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے (اور آپ نے بھی اپنی زندگی میں مشاہدہ کیا ہوگا ) کہ اگر کسی کی تلخ ترش باتوں کو مسکراتے ہوئے برداشت کیا جائے تو اگلے آدمی کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ آپ سچے ہیں بہر حال کوئی کسی بھی نیت سے برا بھلا کہہ رہا ہو، دکھ دے رہا ہو، ایذا پہنچا رہا ہو، اس کے ساتھ ہمارا سلوک انہی اخلاق کے مطابق ہونا چاہیے جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوۂ حسنہ سے دنیا میں قائم فرمایا ہے۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )