خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 239
خطبات ناصر جلد دوم ۲۳۹ خطبہ جمعہ ۹ راگست ۱۹۶۸ء نہ ہو جائے کسی کے دماغ میں۔اسی لئے میں نے شروع میں اس سلسلہ میں یہ فقرے کہے تھے کہ ایک ذکر وہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اس تسلسل میں جو آپ نے بتایا اس تعداد میں جو آپ نے معین کی اور جس پر آپ نے عمل کیا وہ ذکر ہے مثلاً نماز میں فرائض کے بعد تینتیس تینتیس بار جو اس سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ذکر کرنا چاہے اس کو نماز کے بعد ہی کرنا پڑے گا نماز سے پہلے نہیں اور ۳۳، ۳۳ دفعہ ہی کہنا پڑے گا ایک تو یہ ذکر ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھی کئی سنتیں اس سلسلہ میں ہیں لیکن ایک ذکر وہ ہے جو عام ہدایت کی اتباع میں ہے مثلاً اس آیت کریمہ میں ہے ذکراً کثیرا کہ کثرت سے ذکر کرو اس میں تعیین کوئی نہیں نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی تعیین کی تو ان اذکار کے علاوہ جو سنت نبوی سے ہمیں معلوم ہوتے ہیں اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق کہ اُٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنا چاہے وہ اپنے لئے کم سے کم یا جماعت کا امام جماعت کے لئے کم سے کم ذکر مقرر کر دیتا ہے تو یہ سنت نبوی کے خلاف نہیں کیونکہ آپ کی سنت کہیں ہمیں یہ نہیں بتلاتی کہ چوبیس گھنٹے میں اس سے زیادہ ذکر نہیں کرنا یا اس سے کم نہیں کرنا بلکہ عام نصیحت ہے کہ زیادہ سے زیادہ ذکر کرو۔تو زبان کا ذکر ایک تو وہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے اتباع میں کیا جاتا ہے اور ایک وہ ہے جو قرآن کریم کی تعلیم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ذکر کثیر 66 کے اندر آتا ہے۔بعض آدمی اپنے لئے تعین کرتے ہیں کہ کم سے کم اس قدر ذکر ضرور کروں گا بعض اوقات ان کا امام تعیین کرتا ہے ذکراً کثیرا کی روشنی میں اس میں کم سے کم تعداد کی تعیین کی جاتی ہے زیادہ سے زیادہ کتنا ہوا سے افراد پر چھوڑا جاتا ہے تاکہ ساری جماعت کا معیار بلند کیا جاسکے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ صبح و شام اس کی تسبیح میں مشغول رہو اور خدا تعالیٰ کا ذکر بہت کیا کرو اس کی رحمت کے وارث بننے کے لئے یہ ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ( وہاں رحمت کا لفظ ہے یہاں صلوٰۃ کا لفظ ہے اور صلوٰۃ کے لغوی معنی جب یہ لفظ اللہ کے لئے استعمال ہو رحمت کے ہیں ) هُوَ الَّذِى يُصَلّى عَلَيْكُمْ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمتوں سے نوازے گا