خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 236
خطبات ناصر جلد دوم ۲۳۶ خطبه جمعه ۹ راگست ۱۹۶۸ء فرمایا ہے کہ میرا فیصلہ رحمت سے محروم کر دینے کا ہو یا رحمت کی بارش برسانے کا ہو ہر دوصورتوں میں میرے فیصلہ کے مقابلہ میں کوئی اور فیصلہ ٹھہر نہیں سکتا اور دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں جو میرے فیصلوں کو ر ڈ کر دے اور بدل دے اس لئے اگر محرومی رحمت سے بچنا ہو تو میری طرف رجوع کرنا ہوگا۔قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا مثلاً فرمایا کہ لَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا (النساء:۵۰) کہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر جو ایک لکیر سی ہوتی ہے بالکل معمولی سی وہ اتنا ظلم بھی نہیں کرتا۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ ظلام نہیں ہے یہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور منفی اور مثبت ہر دو معنی میں مبالغہ کا مفہوم پیدا کرتا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی ظلم کرنے والا نہیں اس تعلیم کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی فرد یا کسی گروہ کے متعلق رحمت سے محرومی کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ بھی رحمت کا ہی ایک جلوہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے بھی اس کا مقصود ان لوگوں کی یا اس فرد کی اصلاح ہوتی ہے اس وجہ سے اسلام نے ہمیں یہ بتایا کہ جہنم دائمی نہیں کیونکہ اصلی جہنم تو خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہے اس میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دائمی نہیں جب کسی کی اصلاح ہو جائے اس دنیا میں تو بہ اور استغفار کے ذریعہ یا اس دنیا میں ایک وقت معینہ تک سزا بھگتنے کے نتیجہ میں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے اس کے لئے کھولتا ہے اور جہنم کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ نکل جاؤ سارے یہاں سے۔اب جہنم میں کسی کو رکھنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی وضاحت ہے سورۃ احزاب کی ایک دن میں تلاوت کر رہا تھا جب میں اس آیت پر پہنچا تو میری توجہ کو اس آیت نے اپنی طرف کھینچا اور میں رک گیا میں نے اس آیت کے مضمون پر جب غور کیا تو مجھے خیال پیدا ہوا کہ صرف یہ کہہ دینا تو ہمارے لئے کافی نہیں ہے کہ اگر رحمت سے تمہیں میں محروم کروں گا تو میری رحمت تمہیں نہیں مل سکے گی اور اگر رحمت تمہیں دینا چاہوں گا تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں میری رحمت سے محروم نہیں کر سکے گی۔میری گرفت سے بھی تم نہیں بچ سکتے اور میرے احسان کی بارش سے بھی دنیا کی کوئی طاقت تمہیں محروم نہیں کرسکتی اس لئے ہمیں اللہ تعالیٰ نے ضرور تفصیلی ہدایات دی ہوں گی کہ وہ کون سی باتیں ہیں جن کے نتیجہ میں انسان خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے اور وہ