خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 218 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 218

خطبات ناصر جلد دوم ۲۱۸ خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۶۸ء پڑتے ہیں اور اپنے نفس پر ایک موت وارد کرنی پڑتی ہے اور خدا تعالیٰ نے چونکہ کہا ہے عِندَ اللهِ یعنی جب وہ جذبات پر موت وارد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس قربانی کو قبول کرتا ہے اور جب وہ قربانی قبول کرتا ہے تو وہ کیا کرتا ہے؟ پھر اس کے ہاتھ باقی نہیں رہیں گے نہ اس کی آنکھیں باقی رہیں گی نہ اس کے جوارح اپنے رہیں گے اس کے جذبات پر موت وارد ہو جائے گی اور جذبات ہی ہیں جو جوارح کو حرکت میں لاتے ہیں مکھی میرے منہ پر آ کر بیٹھتی ہے اس کے چھوٹے چھوٹے پاؤں سے جو گد گدی ہوتی ہے وہ مجھے برداشت نہیں اس لئے جب میں تنگ آ جاتا ہوں تو میرا ہاتھ فوراً اٹھتا ہے اور اس مکھی کو اڑا دیتا ہوں یہ میں ایک جذ بہ کے ماتحت ہی کرتا ہوں اور جس وقت اللہ تعالیٰ کے لئے ایک انسان اپنے نفس پر موت وارد کر لیتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا کہتا ہے اے میرے بندے ! تو نے اپنے جذبات پر میرے لئے ، میری رضا کے حصول کے لئے ایک موت وارد کر لی ہے۔میں تجھے ایک نئی زندگی دیتا ہوں اب تو مجھ میں ہو کے بولے گا مجھ میں ہو کے سنے گا مجھ میں ہو کے تو اپنے ہاتھوں کو حرکت دے گا اور مجھ میں ہو کے تیرے پاؤں آگے قدم بڑھائیں گے وہ جس طرف بھی اُٹھیں گے وہ میری ہی طرف ہوگی کیونکہ نفس پر تو موت وارد ہو گئی ہے غرض إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسْلَام کے ایک معنی یہ ہیں کہ نفس کو پوری طرح کچل دیا جائے کوئی جذ بہ اپنا نہ رہے تمام جذبات نفسانی خدا تعالیٰ کے ماتحت ہو جائیں اس کے لئے قربان ہو جائیں اس کے قدموں میں گر جائیں ایک موت وارد ہو جائے اور بندہ اپنے رب سے یہ امید رکھے کہ وہ ایک نئی زندگی اس کے بدلہ میں عطا کرے گا۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کی جو اس طرح تفسیریں کی ہیں ان پر جب ہم غور کرتے ہیں اور ان کی وسعت اور گہرائی ہمارے سامنے آتی ہے تو ہم یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ تَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ اللہ تعالیٰ