خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1002 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1002

خطبات ناصر جلد دوم 1005 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۶۹ء موقع پر ہر سال ملا حظہ کرتے ہیں۔پس الہام وَشِعْ مَكَانَكَ میں ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اور آپ سے محبت اور پیار کا تعلق رکھنے والوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے مکانوں میں خدا تعالیٰ کے مہمانوں کے لئے بھی گنجائش رکھنا۔دوسرے اس میں یہ حکم ہے کہ اپنے موجودہ مکانوں میں مہمانوں کو ٹھہرانے کے لئے گنجائش پیدا کرو کیونکہ وسغ کے ایک معنی تفسح کے بھی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورہ مجادلہ میں فرماتا ہے کہ جب کہا جائے تَفَسَحُوا في المجلس (المجادلة : ۱۲ ) مجالس میں کھل کر بیٹھو اور آدمیوں کے لئے جگہ نکالو تو اس وقت تم کھل کے بیٹھا کرو تا کہ مزید آدمی بیچ میں بیٹھ سکیں۔غرض وسغ مَكَانَكَ کے ایک معنی یہ ہیں کہ تم اپنے مکانوں ( ان کی اس وقت جو مکانیت بھی ہے ) میں خدا تعالیٰ کے مہمانوں کے لئے جگہ نکا لوگو یا اس کے ایک معنی تو ہیں مہمانوں کے لئے جگہ بناؤ اور ایک معنی ہیں مہمانوں کے لئے جگہ نکالو اور یہ معنی تفسح کے مفہوم کے لحاظ سے ہیں۔جلسہ سالانہ قریب آ رہا ہے اور ایک مخلوق خدا کے لئے اپنے گھروں اور اپنے گھروں کے آراموں کو چھوڑے گی اور اس بستی میں جو ایک وقت میں ایک بے آب و گیاہ خطہ تھی وہ جمع ہوگی اس لئے نہیں کہ وہ دنیا کے اموال جمع کرے بلکہ وہ یہاں اس لئے جمع ہوگی تا اللہ اور اس کے رسول کی باتیں سنے اور اس طرح اپنی روح کو صیقل اور اپنے ماحول کو منور کرنے کے سامان اپنے لئے پیدا کرے اور خدا کی برکتوں سے اپنی جھولیاں بھر کر اپنے گھروں کو واپس لوٹے۔اگر اہل ربوہ ان لوگوں کو ٹھہرنے کے لئے جگہ نہ دیں تو وہ خدا کے آسمان کے نیچے بڑی خوشی سے یہ دن گزاریں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لے کر اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے لیکن ربوہ کے مکین خدا کی بہت سی برکتوں سے محروم ہو جائیں گے لیکن ہم ان سے کیوں محروم ہوں اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا فضل کرنا چاہتا ہے وہ ہمیں اپنی برکتوں اور رحمتوں سے نوازنا چاہتا ہے پھر ہم اپنے گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں کیوں بند کر دیں کہ خدا کی برکت اور اس کی رحمت ہمارے گھروں میں داخل نہ ہو پس اپنے گھروں کے دروازوں کو خدا تعالیٰ کے مہمانوں