خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 983
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۸۳ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۶۷ء عظمت اور اس کی کبریائی کو اپنے دلوں میں محسوس کرو گے اور اپنے نفس کو اس کی راہ میں مٹا دو گے تب تم شکر کرنے کے قابل ہو گے ورنہ تم شکر کے قابل نہیں ہو گے تمہارا شکر زبانوں پر تو ہو گا لیکن تمہارے دل اور تمہارے اعمال اور تمہاری روح اور تمہارے جوارح خدا تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کر رہے ہوں گے۔پس اگر تم خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنا چاہتے ہو تو جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں کوئی نعمت ملے تُكبّرُوا اللہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور عظمت کا اعلان کرو اور اپنے دل اور سینہ میں اس عظمت کے احساس کو زندہ اور اجاگر اور شدت کے ساتھ قائم کرو اور تم شکر گزار بندے بن جاؤ اور جب تم خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن جاؤ گے تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا کرے گا مزید ترقیات کے دروازے تم پر کھولے گا مزید حکمتیں اور علوم قرآنی تمہیں عطا کرے گا اور تمہارے نور میں اور زیادہ نورانیت پیدا کرے گا اور پھر ایک حسین اور مفید چکر اور دائرہ قائم ہو جائے گا۔تم خدا تعالیٰ سے نعماء حاصل کرتے رہو گے اور اپنی ہدایت اور اپنی فراست اور اپنی روحانیت کے نتیجہ میں ہر موقع پر اپنے نفس کو قربان کر کے اللہ ہی کی عظمت اور کبریائی کا اعلان کرو گے اور اس طرح اس کا شکر ادا کرو گے تو پھر وہ اور نعمتیں تمہیں دے گا پھر تم اور شکر ادا کرو گے تو وہ اور نعمتیں تمہیں عطا کرے گا۔غرض رمضان کے مہینہ میں ایک ایسا دائرہ شروع ہو جاتا ہے جو غیر متناہی روحانی اور جسمانی، دینی اور دنیوی ترقیات کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے اور انسان کسی مقام پر ٹھہرتا نہیں اور انسان کا دشمن شیطان جو کبھی نفس امارہ کی سرنگ سے اور کبھی بیرونی حملوں کے ذریعہ انسان کو خدا سے دور کرنا چاہتا ہے وہ اپنے تمام حملوں میں نا کام ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ہی شیطانی حملوں سے بچائے رکھے اور محفوظ رکھے۔روزنامه الفضل ربوه ۲ دسمبر ۱۹۶۷ء صفحه ۲ تا ۴)