خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 981 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 981

خطبات ناصر جلد اوّل اس کے لوازم کو ادا نہیں کرتا۔۹۸۱ خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۶۷ء رمضان کے مہینہ میں ہم خاص طور پر قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور نوافل کی ادائیگی کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص صحت میں رمضان کا مہینہ پائے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ رمضان کی برکتوں سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے روزے بھی رکھے۔نوافل بھی ادا کرے غرباء کا خیال بھی رکھے خدا تعالیٰ کی راہ میں سخاوت کا مظاہرہ بھی کرے اپنے بھائیوں کی غم خواری اور ان سے ہمدردی بھی کرے تمام بنی نوع انسان سے محبت کا سلوک کرے اور اپنی زبان کو اور دوسرے جوارح کو ان اعمال سے بچائے رکھے جو خدا تعالیٰ کو ناراض کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کثرت تلاوت اور کثرت نوافل اور روزے رکھنے کے نتیجہ میں ہدایت کے ، بینت کے اور نُورٌ مِّنَ اللہ کے سامان پیدا کرے گا۔اللہ تعالیٰ یہاں بیان فرماتا ہے کہ جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو وہ کسی اور وقت رمضان کے روزوں کی گفتی کو پورا کرے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرا ارادہ ہے کہ اس طرح میں اپنے بندوں کے لئے سہولت کے سامان پیدا کروں مومن وہی ہوتا ہے جو اپنے ارادہ اور خواہش کو چھوڑ دیتا ہے اور خدا کے ارادہ کو قبول کرتا ہے پس یہ مومن کی علامت ہے کہ وہ سفر میں اور بیماری میں اپنی شدید خواہش کے باوجود اپنی اس تڑپ کے باوجود کہ کاش میں بیمار نہ ہوتا یا سفر میں نہ ہوتا روزہ نہیں رکھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نیکی اس بات میں نہیں کہ میں بھوکا رہوں بلکہ نیکی یہ ہے کہ میں اپنے ارادہ کو خدا تعالیٰ کے ارادہ کے لئے چھوڑ دوں۔يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ العسر میں ایک تو اس ارادہ کا اظہار کیا گیا ہے دوسرے اس ارادہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ میں نے رمضان کی عبادتیں تم پر اس لئے واجب کی ہیں اور قرآن کریم کی شریعت تم پر اس لئے نازل کی ہے کہ تم پر میرے قرب کی وہ راہیں کھلیں جو تمہاری روحانی خوشحالی کا باعث ہوں اور جو مشکلات تمہاری روحانی تشنگی کے نتیجہ میں پیدا ہوسکتی ہیں ان سے تم محفوظ ہو جاؤ۔پس تمہیں اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔وَلِتَمِلُوا الْعِدَّةَ اس کے کئی معانی ہو سکتے ہیں لیکن ایک معنی یہ بھی ہیں کہ تا تمہاری زندگی دوور