خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 949
خطبات ناصر جلد اول ۹۴۹ خطبه جمعه ۲۰/اکتوبر ۱۹۶۷ء ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آ جائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے مگر خدا غضب میں دھیما ہے تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جو اس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ۔وَاخِرُ دَعُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - یہ پیغام ختم ہونے کے بعد حضور نے فرمایا:۔پس ان الفاظ میں میں نے دنیا کی اقوام کو مخاطب کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ ان الفاظ پر غور کریں اور پیشگوئیوں کو مد نظر رکھیں تو آپ کے دل میں احساس پیدا ہوگا کہ اب آپ کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت بڑھ کر ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں انہیں سمجھنے اور نباہنے کی توفیق بخشے۔آمین۔(روز نامه الفضل ربوه ۲۶ /اکتوبر ۱۹۶۷ء صفحه ۲ تا ۸) 谢谢谢