خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 861 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 861

خطبات ناصر جلد اول ۸۶۱ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۶۷ء کے عیش کے لئے نہیں اور دنیا کماتے ہوئے بھی اتنا دین سیکھ لیں کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کی آواز آپ کے کان میں پہنچے کہ اعلائے کلمہ اسلام کے لئے اور دین اسلام کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے اور ان اقوام کو جو اسلام کی طرف جھک رہی ہیں اور رجوع کر رہی ہیں ان کو اسلام کی تعلیم سکھانے کے لئے آدمی چاہئیں تو آپ میں سے ہر ایک اس قابل ہو کہ انہیں اسلام سکھا سکے اور اس بات کا عزم اپنے دل میں رکھتا ہو کہ وہ دنیا کے ہر کام کو چھوڑ دے گا اور اسلام کے سکھانے کے لئے جہاں ضرورت ہو گی چلا جائے گا۔تو یہ تڑپ ہے جو میرے دل میں ہے یہ پریشانی ہے جو لاحق ہے جو بعض دفعہ میری نیند کو بھی حرام کر دیتی ہے۔میں ہمیشہ دعائیں کرتا رہتا ہوں آپ کے لئے بھی اور اپنے لئے بھی اور ساری دنیا کے لئے بھی اور میں اپنے رب سے کہتا ہوں کہ اے میرے پیارے ربّ! تو نے آج تک ہمیشہ پیار کی نگاہ مجھ پر رکھی ہے آئندہ بھی ہمیشہ پیار ہی کی نگاہ رکھنا اور مجھے یہ توفیق دینا کہ جماعت کی رہبری اور قیادت کے لئے جو ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے وہ میں اچھی طرح نبھا سکوں۔تاکہ یہ تیری پیاری جماعت اور میری پیاری جماعت تیرے سامنے شرمندہ نہ ہو خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔روزنامه الفضل ربوه ۴/اکتوبر ۱۹۶۷ء صفحه ۲ تا ۷)