خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 679
خطبات ناصر جلد اول ۶۷۹ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۶۷ بیت اللہ ایسی آیات بینات اور تائیدات سماوی کا منبع ہے جو ہمیشہ زندہ رہیں گے خطبہ جمعہ فرموده ۱۲ رمئی ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور فاتحہ شریف کی تلاوت کے بعد حضور پرنور نے آیت فِيهِ ايْت بَيِّنَتْ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ : وَمَنْ دَخَلَه كَانَ آمِنًا وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا - (ال عمران: ۹۸) تلاوت فرمائی۔پھر فرمایا:۔میں اپنے خطبات میں ان تئیس مقاصد کے متعلق بیان کر رہا ہوں جن کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی بنیادوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ اُٹھوایا تھا اور یہ بتا رہا ہوں کہ کس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان اغراض کو پورا کیا گیا۔تین مقاصد کے متعلق میں اپنے پچھلے خطبات میں اپنے دوستوں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کر چکا ہوں۔چوتھی غرض تعمیر کعبہ سے یہ تھی یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا چوتھا وعدہ یہ تھا کہ فِیهِ ایت بيّنت میں نے بتایا تھا کہ اس فقرہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ خدا کا یہ گھر ایسی آیات و بینات اور ایسے نشانات اور تائیدات سماوی کا منبع بنے گا جو ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں گی یعنی اس تعمیر سے ایسی اُمت مسلمہ کا قیام مدنظر تھا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے نشان قیامت تک دنیا پر ظاہر ہوتے رہیں۔