خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 446
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۴۶ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء اضافہ کرتی چلی جاتی ہیں اور مزید فضل اور بخشش کا اسے وارث قرار دیتی ہیں۔پھر جب وہ مزید فضل اور بخشش کا وارث بنتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کا پہلے سے بھی زیادہ شکر گزار بندہ بن جاتا ہے اور جب وہ پہلے سے زیادہ شکر گزار بندہ بنتا ہے تو اللہ تعالیٰ پہلے سے بھی زیادہ اس سے محبت کا سلوک کرنے لگ جاتا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ خدا مجھ سے پہلے سے بھی زیادہ محبت کا سلوک کر رہا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اور بھی زیادہ جھک جاتا ہے اور اس طرح ایک تسلسل قائم ہو جاتا ہے اور ہر آن بندہ خدائے واسع کی صفت واسع کا مشاہدہ کرتا چلا جاتا ہے۔پس فرمایا کہ مجاہدہ کرو پھر فرمایا کہ تم مجاہدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اس صورت میں صرف امیدوار ہو سکتے ہو ہاں اگر تم بدیوں کو چھوڑو نہیں اور نیکیوں کو اختیار نہ کرو تو پھر تم کس طرح امید رکھ سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے رحمت کا سلوک کرے گا۔لیکن اگر تم ایسا کر لو تو ابھی صرف یہ ایک امید ہے۔ابھی واقع نہیں۔جب تک اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو اور جب اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو جائے تو یہ امید حقیقت بن جاتی ہے۔مجاہدہ کے معنی کو جب ہم قرآن کریم کی دوسری آیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل باتوں کو جہاد یا مجاہدہ میں شامل کیا ہے اور یہاں میری مراد مجاہدہ سے’ نیکیوں کا اختیار کرنا ہے۔جو مجاہدہ کا ایک پہلو ہے۔’بدیوں کو چھوڑ نا “ دوسرا پہلو ہے مگر میں اس وقت پہلے حصہ کے متعلق ہی بیان کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ انفال میں فرماتا ہے:۔وَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَ الَّذِينَ أُووُا وَ نَصَرُوا أُولَبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا (الانفال: ۷۵) اس آیت میں مجاہدہ کی مندرجہ ذیل قسمیں بیان کی گئی ہیں :۔(۱) ایک مجاہدہ ہے جو ہجرت کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ایک تو وہ بڑی ہجرت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کی اور ایک وقت آنے پر آپ نے فرمایا کہ اب اس قسم کی ہجرت نہیں رہی۔