خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 368 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 368

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۶۸ خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۶۶ء اور ان کا ایمان ان بشارتوں کے متعلق پختہ نہ ہو۔اسی طرح وہ شریعت کو قائم کرنے والے نہ ہوں تو ان کو ایمان کی طرف لانے کے لئے اللہ تعالیٰ پھر ا نذاری طریق استعمال فرمائے گا۔یہاں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو مبارک کہا ہے بعض جگہ قرآن کریم کے متعلق یہ بیان ہوا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو تمام ہدایتوں کا مجموعہ ہے ،لیکن یہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ یہ ا ایک ایسی کتاب ہے جو تمام برکات کی جامع ہے۔یعنی الہی ہدایتوں پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جو برکات انسان کو حاصل ہوتی ہیں اس آیت میں ان کا بیان ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بیان فرمایا کہ پہلی امتوں کو کامل ہدایت نہ ملی تھی ناقص ہدایت ملی تھی (بوجہ اس کے کہ وہ اپنی روحانی نشوونما میں ابھی ناقص تھے ) اگر وہ نیک نیتی کے ساتھ ، پوری جد و جہد ، محنت اور کوشش کے ساتھ اس ہدایت پر عمل کرتے جو ان کو دی گئی تھی تو اس کے نتیجہ میں جو برکت انہیں حاصل ہوتی وہ اس برکت کے نتیجہ میں بہت کم ہوتی جو قرآن کریم کی ہدایت پر عمل کر کے انسان حاصل کر سکتا ہے کیونکہ قرآن کریم تمام برکات کا مجموعہ ہے۔اس آیت پر میں نے جب غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر یہ قرآن کتب مبرك ہے اور يقيناً قرآن كتب ممبر ہے اور اس نے تمام برکاتِ روحانی کو اپنے اندر جمع کیا ہوا ہے تو پھر عقلاً تین نتیجے نکلتے ہیں۔اول یہ کہ اس کتاب کی کامل اتباع کی جائے۔دوسرے یہ کہ اس کتاب نے تقویٰ کی جو باریک راہیں ہمیں بتائی ہیں ان پر گامزن رہا جائے اور تیسرے یہ کہ اگر اور جب ہم یہ کر لیں تب خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے ہم پر کھل سکتے ہیں۔لیکن اگر ہم ایسا نہ کریں تو باوجود اس کے کہ یہ کتاب تمام برکات روحانی کی جامع ہے ہم اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔میں جب سورۃ الانعام کی تلاوت کر رہا تھا تو مجھے خیال آیا کہ میں اس آیت کے متعلق خطبہ دوں گا۔میں نے سوچا تو یہ تینوں باتیں میرے ذہن میں آئیں۔جب میں سورۃ کے آخر میں پہنچا مجھے یہ دیکھ کر لطف آیا کہ وہ تین باتیں جو اس وقت میرے ذہن میں آئی تھیں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام