خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 204 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 204

خطبات ناصر جلد اول ۲۰۴ خطبہ جمعہ ۱/۸ پریل ۱۹۶۶ء اس حکم کے ماتحت آج میں احباب جماعت کو ان کی بعض ذمہ داریاں یاد دلانا چاہتا ہوں (۱) پہلی یہ کہ دوست جانتے ہیں کہ ہمارے مالی سال کا یہ آخری مہینہ جا رہا ہے تمام احباب جماعت کو عموماً اور تمام عہدیداران نظام کو خصوصاً میں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی پوری کوشش کریں کہ جماعت کا جو بجٹ ہے جسے ہم حصہ آمد ( یعنی وصیت کے چندے ) یا چندہ عام کہتے ہیں یا جلسہ سالانہ کا چندہ ہے نہ صرف یہ کہ پورا ہو جائے بلکہ جو بجٹ بنایا گیا تھا اس سے زیادہ آمد ہو جائے اور یقیناً آمد زیادہ ہو سکتی ہے۔کیونکہ جو بجٹ شوریٰ میں پیش ہوتا ہے اور جس کی سفارش کی جاتی ہے اور بعد میں منظوری دی جاتی ہے۔وہ کئی لاکھ روپیہ اس بجٹ سے کم ہوتا ہے جو فی الواقعہ جماعت کے اوپر ان کی استعداد اور ذمہ داریوں کے پیش نظر ڈالا جانا چاہیے اس کی بہت سی وجوہات ہیں اس کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے لیکن اس کی اصلاح میں بعض روکیں بھی ہیں۔انشاء اللہ ان کی اصلاح جلد ہی ہو جائے گی۔پس جو بجٹ منظور ہو چکا ہے وہ اصل ذمہ داری سے کم درجہ پر ہے اس لئے نہ صرف یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ بجٹ پورا ہو جائے بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کوشش ہونی چاہیے کہ جو حقیقی اور اصلی بجٹ آمد کا ہے۔اس کے مطابق ساری جماعتوں کی آمد ہو جائے۔امید ہے کہ تمام پریذیڈنٹ صاحبان اور مال کے ساتھ تعلق رکھنے والے عہدہ داران اور امراء صاحبان اور امراء اضلاع اس امر کی طرف خصوصی توجہ دیں گے کہ اس ماہ کے اندر سالِ رواں کا بجٹ نہ صرف یہ کہ پورا ہو جائے بلکہ آمد بجٹ سے بھی زیادہ ہو جائے۔(۲) دوسری بات جس کی طرف میں آج جماعت کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے اپنے ایک خطبہ میں جماعت کے سامنے قرآن کریم کی یہ تعلیم رکھی تھی کہ اللہ تعالیٰ ہم سے یہ چاہتا اور مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اس بات کا خیال رکھیں کہ ہم میں سے کوئی شخص رات کو بھوکا نہ سوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی تعلیم دی ہے کہ ہم کوئی زائد خرچ کئے بغیر خدا تعالیٰ کا یہ حکم پورا کر سکتے ہیں۔بہت سے دوستوں اور بہت سی جماعتوں نے اس کے بعد مجھے خطوط لکھے ہیں کہ ہم اس کی