خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 774 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 774

خطبات ناصر جلد دہم 225 خطبہ نکاح ۱۵؍ دسمبر ۱۹۷۷ء عزیزہ صبیحہ مرزا صاحبہ بنت مکرم مرزا محمد ادریس صاحب ساکن ربوہ کا نکاح چار ہزار امریکن ڈالر پر عزیزم محمد امجد قریشی ابن مکرم قریشی محمد یوسف صاحب بریلوی کے ساتھ قرار پایا ہے۔عزیزہ صبیحہ کے والد واقف زندگی ہیں اور اس وقت سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مبلغ کی حیثیت میں بنی نوع انسان کی خدمت کرنے میں انڈونیشیا کے علاقہ میں مصروف جہاد ہیں۔انہوں نے اپنی جگہ اپنے والد محترم مرزا محمد اسماعیل صاحب کو ولی مقرر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل سے ہماری اس عزیزہ بچی کو جو بوساطت اپنے والد کے واقفہ زندگی ہی ہے۔بہت سی برکتوں سے نوازے۔دوسرا نکاح عزیزه فرح رحمان صاحبہ بنت مکرم لیفٹینٹ کرنل ڈاکٹر صفی الرحمان صاحب ساکن لا ہور کا ہے۔جو چار ہزار امریکن ڈالر پر عزیزم محمد یا مین اظہر قریشی ابن مکرم قریشی محمد یوسف صاحب بریلوی ساکن ربوہ سے قرار پایا ہے۔مکرم ڈاکٹر صاحب کو رخصت نہیں مل سکی انھوں نے اپنی اور اپنی بچی کی طرف سے مکرم شیخ محبوب عالم صاحب خالد ایم اے ناظر بیت المال آمد کو وکیل نکاح مقرر کیا ہے۔ایجاب و قبول کے بعد حضور انور نے ان رشتوں کے بہت بابرکت ہونے کے لئے حاضرین سمیت دعا کرائی۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۵ جنوری ۱۹۷۸ ء صفحه ۶)