خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 757 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 757

خطبات ناصر جلد دہم ۷۵۷ خطبہ نکاح ۱۴ / مارچ ۱۹۷۷ء موت اور زندگی انسان کے ساتھ ساتھ لگے ہوئے ہیں خطبہ نکاح فرموده ۱۴ مارچ ۱۹۷۷ء بمقام مسجد مبارک ربوہ حضور انور نے بعد نماز عصر محترمہ راشدہ منصورہ صاحبہ بنت مکرم مولوی عبد الباقی صاحب مرحوم کا بیس ہزار روپے حق مہر پر مکرم ملک رؤوف احمد صاحب ابن مکرم ملک عبداللطیف صاحب ظہور ساکن لاہور کے ساتھ نکاح کا اعلان فرمایا۔اعلان نکاح سے قبل حضور انور نے مکرم الحاج ملک عبد الرحمن صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ دوالمیال جو اسی روز صبح دار الرحمت غربی ربوہ میں وفات پاگئے تھے، کی نماز جنازہ پڑھائی۔پھر نکاح سے متعلق خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔موت اور زندگی انسان کے ساتھ ساتھ لگے ہوئے ہیں۔جنازہ بھی ہوتا ہے نکاح کا اعلان بھی ہوتا ہے۔لوگ پیدا بھی ہوتے ہیں پھر اپنے وقت پر ان کی وفات بھی ہوتی ہے۔پیدائش کا سلسلہ موت کے سلسلہ کو جنم دیتا ہے اور پیدائش کے سلسلہ کا تعلق نئے رشتوں کے استوار ہونے سے ہے جو نکاح کے ساتھ اسلام میں قائم ہوتے ہیں۔میں اس وقت ایک عزیزہ کے نکاح کا اعلان کروں گا۔یہ عزیزہ محترم مولوی عبد الباقی صاحب مرحوم کی چھوٹی صاحبزادی ہیں اور غالباً ان کے بچوں میں بھی سب سے چھوٹی ہیں۔