خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 729 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 729

خطبات ناصر جلد دہم ۷۲۹ خطبہ نکاح ۵ را پریل ۱۹۷۶ء ازدواجی ذمہ داریاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی نبا ہی جاتی ہیں خطبہ نکاح فرموده ۵ ۱۷ پریل ۱۹۷۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر از راہ شفقت دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس دنیا میں خوشحالی کے سامان ہمارے اعمال اس صورت میں پیدا کر سکتے ہیں جیسا کہ ہم تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والے ہوں مثلاً بارش ہے۔کبھی انسان اپنی غفلتوں کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے اس فضل سے دور ہو جاتا ہے لیکن جب انسان خدا تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے اور اس سے اپنا تعلق مضبوط کرتا ہے تو اس وقت یہ بارش رحمت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اسی طرح ازدواجی رشتے قائم ہوتے ہیں اور ان کی جو ذمہ داریاں ہیں یہ بھی سب خدا تعالیٰ کے فضل ہی سے نباہی جاتی ہیں اور رحمت بنتی ہیں۔ہماری یہ دعا ہے کہ جو رشتے آج قائم ہورہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والے ہوں اور دین و دنیا میں کامیاب ہوں۔اس وقت میں دو نکاحوں کا اعلان کروں گا ایک نکاح تو ہمارے مرحوم ساتھی مولوی محمد یعقوب صاحب کے بیٹے عزیزم داؤ د احمد طاہر صاحب کا ہے جو عزیزہ راشدہ تسنیم صاحبہ بنت