خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 681 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 681

خطبات ناصر جلد دہم ۶۸۱ خطبہ نکاح ۱۱ رمئی ۱۹۷۴ء سلسلہ میں یہاں آئے تھے لیکن اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں کیونکہ بعض فارم نامکمل تھے اس لئے قانون کی پابندی کرتے ہوئے انہیں کہا گیا تھا کہ وہاں سے مکمل کر کے بھجوائیں۔انہوں نے سفر بھی کیا اور چلے بھی گئے۔یہ تو نہیں میں کہتا کہ گھاٹے میں رہے کیونکہ اب ہم ان کے لئے زیادہ دعائیں کریں گے۔بہر حال وہ بھی یہاں موجود نہیں۔انہوں نے اپنی طرف سے اپنے والد مکرم ومحترم خلیل الرحمان خان صاحب کو بطور وکیل کے مقرر کیا ہے۔تو اس نکاح کی یہ شکل بنی ہے کہ فریقین کی طرف سے دو وکیل ہیں اور دولہا بھی غائب ہیں اور دلہن بھی موجود نہیں اور ہر دو میں سے ایک کے والد یہاں موجود ہیں۔ویسے ملک حبیب الرحمان صاحب بڑے خوش ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی قائم مقامی کر رہے ہیں۔تو عزیزہ عزیزہ سلام بیگم (عزیزہ ان کا نام ہے اور سلام آج کل کے طریق کے مطابق ابا کا نام بچے رکھ لیتے ہیں۔تو ان کا نام بن گیا عزیزہ سلام بیگم اور میں یہ کہوں گا عزیزہ عزیزہ سلام بیگم ) بنت مکرم و محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا نکاح گیارہ صد پاؤنڈ حق مہر پر عزیز مکرم ڈاکٹر حمید الرحمان خان صاحب سے قرار پایا ہے۔ایجاب و قبول کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اب دوست دعا کر لیں اللہ تعالی اس رشتہ کو با برکت کرے۔( آمین ) از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )