خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 627
خطبات ناصر جلد دہم ۶۲۷ خطبہ نکاح ۲۰ را پریل ۱۹۷۳ء چنانچہ خدا کا یہ وعدہ پورا ہوا۔آج آپ کی جماعت کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ چار دانگ عالم میں بڑے زور وشور کے ساتھ کی جارہی ہے اور اسلام کے عالمگیر غلبہ کے آثار روز بروز نمایاں ہوتے چلے جارہے ہیں۔گو اس عرصہ میں دنیا کی مخالفتیں اور دنیا کے کفر کے فتوے تو بہت بڑھ گئے وہ دوسو سے شاید دو ہزار ہو گئے ہوں گے۔ساری دنیا میں علمائے ظاہر نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگا یا مگر ساری دنیا کے علمائے ظاہر کے فتووں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ پر دے مارا۔نتیجہ ظاہر ہے کہ جو مہم الہی منشا سے جاری کی گئی ہے اس کے خلاف کفر کے فتوے بھلا کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔۱۹۶۷ء میں جب میں یورپ کے دورے پر گیا۔(اب یہ ایک احمدی کی جذباتی چیز ہے۔میں بتا دیتا ہوں ) تو یہ انگریز جو بڑے پھنے خاں بنے پھرتے ہیں اور اپنے آپ کو دنیا کا حاکم سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم پتا نہیں کیا ہیں۔اس لئے سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔چنانچہ میرے دورے کے دوران اگر جماعت کی طرف سے یہ کوشش ہوتی کہ بی بی سی میرا کوئی انٹرویور یکارڈ کرے اور پھر اسے براڈ کاسٹ کرے تو مجھے یقین ہے انہوں نے اس بارہ میں پانچ دس ہزار پاؤنڈ کا مطالبہ کرنا تھا۔لیکن ہم اپنے کام میں مصروف تھے کہ ایک دن ان کا آدمی آ گیا اور کہنے لگا میں بی بی سی کا نمائندہ ہوں اور انٹرویو لینے آیا ہوں۔چنانچہ اس نے انٹر ویولیا اور اپنے ہفتہ وار پروگرام آؤٹ لک (Out Look) میں اسے یکے بعد دیگرے تین ہفتے تک نشر کیا۔جسے مغربی افریقہ میں ہمارے ایک سکول کے استاد اور اس کی بیوی نے سنا تو فرط عقیدت سے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ کجاوہ وقت کہ قادیان کی گمنام بستی سے اکیلی آواز بلند ہوئی تھی جسے ساری دنیا نے دھتکار دیا اور جسے مٹانے کے لئے دنیا نے اپنی طرف سے بہت مخالفت کی مگر وہ خدا جو اپنے وعدوں کا سچا ہے اس نے اپنے وعدوں کو کس طرح پورا کر دکھایا۔وہ جوا کیلا تھا اور ساری دنیا کا دھتکارا ہوا تھا آج وہ وقت آ گیا ہے کہ اس کے ایک خلیفہ کی آواز بی بی سی کے ذریعہ ساری دنیا میں نشر ہو رہی ہے۔مغربی افریقہ میں سکولوں کا ذکر آ گیا ہے تو میں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ ہم نے وہاں کے مسلمان کی یہ خدمت کی ہے کہ پہلے مسلمانوں کا کوئی سکول نہیں ہوتا تھا۔مگر آج اس ضمن میں وہاں