خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 588 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 588

خطبات ناصر جلد دہم ۵۸۸ خطبہ نکاح ۱۴ رمئی ۱۹۷۲ء شخصیت اس وقت بھی مجھ پر اثر انداز ہے۔دوست دعا کریں کہ ان کے یہ ہر دو بچے بھی اپنے باپ کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں۔عزیزہ بچی مریم حنا شاہ صاحبہ کا رشتہ اس وقت میر خاندان میں ہو رہا ہے۔جس کا ایک حصہ بریڈ فورڈ (انگلستان) میں آباد ہے۔ہماری بچی کے والد وفات پاچکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے۔عزیزہ کے حقیقی بھائی عزیزم سید مشہود احمد صاحب بطور وکیل یہاں موجود ہیں۔عزیزم ڈاکٹر نعیم اللہ میر ابن مکرم میر حمید اللہ صاحب مرحوم جن کے ساتھ یہ رشتہ قرار پایا ہے وہ بریڈ فورڈ میں ہیں اور یہاں تشریف نہیں لا سکے۔انہوں نے اپنی طرف سے اپنے چچا مکرم امان اللہ میر صاحب کراچی کو اپنا وکیل مقر ر کیا ہے۔ان کے مہر کے متعلق مجھ میں اور ہر دو خاندانوں میں کچھ تھوڑا سا جھگڑا رہا ہے۔مہر چونکہ بہت زیادہ ہے۔اس لئے میں اس کی وضاحت کر دیتا ہوں۔میرا خیال تھا کہ بنتیس ہزار روپے مہر کافی ہے لیکن خود ہمارا بچہ بھی راضی ہو گیا کیونکہ وہ ڈاکٹر ہیں اور وہاں ان کی آمد کافی ہے اور پھر بچی بھی زیادہ مہر پر راضی ہو گئی۔اس واسطے باہمی رضامندی سے اکاون ہزار روپے مہر قرار پایا۔جس کی میں نے اجازت دے دی۔ویسے پہلے میرا خیال تھا کہ بتیس ہزار روپے مہر پر یہ اعلان ہو بہر حال جب ہر دو فریق راضی ہیں اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ راضی رکھے تو میں نے پھر مناسب نہیں سمجھا کہ اس میں ترمیم کر دوں۔پس ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ میں اس نکاح کا اعلان کرتا ہوں۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے اس رشتہ کے بہت بابرکت اور ثمرات حسنہ کا موجب بننے کے لئے حاضرین سمیت لمبی دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوه ۳ جون ۱۹۷۲ء صفحه ۳)