خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 558 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 558

خطبات ناصر جلد دہم ۵۵۸ خطبہ نکاح ۱۹ نومبر ۱۹۷۰ء کی اس حرکت میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتے ہیں ان کا راستہ روک رہے ہوتے ہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ انسان نے خیر کی طرف حرکت کی۔مخالفتوں اور مخالفانہ منصوبوں کے باوجود یہ حرکت تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئی اور آخر اپنے کمال کو پہنچ گئی۔چنانچہ اس وقت کی معلوم دنیا میں ہمیں خیر ہی خیر نظر آتی ہے۔شر کی طاقتیں ناکام ہوگئیں اور خیر پوری طرح فتح یاب ہوا۔اس کے بعد نوع انسان نے ایک ہزار سالہ دور میں شر کی طرف حرکت کی۔اس وقت بھی خدا کے بندے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں اس حرکت کو روکنے کی فکر میں رہے اور اس کوشش میں رہے کہ انسان شر سے محفوظ رہ کر خیر کو پانے والا ہو۔لیکن وہ پوری طرح کامیاب نہ ہوئے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ انسانی نوع نے خیر کی طرف حرکت شروع کی ہے اور جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے۔أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ (الانبياء : ۴۵) یعنی معمولی سے اروژان (Erosion) سے شروع ہوتی ہے اور جس وقت یہ اپنی جوانی پر آتی ہے تو تند سیلاب کی طرح شر کو بہا کر لے جاتی ہے اور ہر جگہ خیر کے پانی کو پہنچا دیتی ہے۔نوع انسانی کی خیر کی طرف یہ حرکت شروع ہو چکی ہے اور اس میں ہر روز شدت پیدا ہو رہی ہے اور وہ زمانہ جلد آنے والا ہے جب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو خیر محض ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ میں تمام بنی نوع انسان جمع ہو جائیں گے۔آج کو تاہ بین آنکھ کو یہ حرکت نظر نہیں آتی مگر دیکھنے والے آج بھی اس کو دیکھ رہے ہیں لیکن دیکھنے والے جو آج دیکھ رہے ہیں اس کی وجہ سے ان نوجوانوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جن کے نکاحوں کا ہم آئے دن اعلان کرتے ہیں۔اس لئے کہ ان کے بچے پیدا ہوں گے اور وہ جب اپنی بلوغت کو پہنچیں گے تو وہ اس سے بہت ہی مختلف اور بہت ہی حسین دنیا میں داخل ہو چکے ہوں گے۔اس وقت ان کے اوپر ایک خاص قسم کی خیر کی ذمہ داریاں پڑیں گی اس کے لئے نو جوان ماں باپ کو آج ہی سے تیاری کرنی چاہیے اور اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرنی چاہیے ورنہ وہ اس خیر کی دنیا میں