خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 522 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 522

خطبات ناصر جلد دہم ۵۲۲ خطبہ نکاح ۸ رفروری ۱۹۷۰ء خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے برکتوں کی چار عطایا کا انتظام کیا ہے۔اس وقت میں چار نکاحوں کا اعلان کروں گا۔ازدواجی رشتوں کا قیام بہت سی خوشیاں بھی ساتھ لاتا ہے اور ہم پر بہت سی ذمہ واریاں بھی عائد کرتا ہے۔یہ ذمہ واریاں صرف میاں بیوی پر ہی عائد نہیں ہوتیں بلکہ ان رشتوں کے استوار ہونے سے یہ ذمہ واری ہر دو خاندانوں پر بھی ہوتی ہے اور ہم جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک الہی جماعت سے منسلک ہیں۔ہم پر بحیثیت جماعت بھی بہت سی ذمہ واریاں عائد ہوتی ہیں۔نہ صرف یہ دیکھنے کی ذمہ واری کہ ہمارے ماحول میں ہمارے بچوں کی صحیح تربیت ہو بلکہ یہ ذمہ داری بھی اور یہ ذمہ واری بڑی ہی اہم ہے کہ ہم اپنے رب کے حضور دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ جب بھی آئندہ نسلوں کے اجرا کا سامان پیدا کرے اس وقت ایسے حالات بھی پیدا کرے کہ اس کے خادم اس دنیا میں ظاہر ہوں۔اس کے فدائی ، اس کے اطاعت گزار، اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور پیار کرنے والے۔کثرت سے یہ دعائیں ہونی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ دین کی حسنات ہمیں بھی اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی عطا کرے اور دنیا کی حسنات سے بھی ہمیں متمتع فرمائے۔جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے۔میں اس وقت چار نکاحوں کا اعلان کروں گا۔ہمارے بزرگ مکرم محترم مولوی عبد الرحیم صاحب درد مرحوم کی بچی عزیزہ نعیمہ درد کا نکاح عزیزم مکرم ملک رب نواز صاحب سے قرار پایا ہے۔یہ عزیزہ بچی شادی کے بعد امریکہ جائیں گی۔کیونکہ جن سے ان کا نکاح ہو رہا ہے وہ آج کل وہاں کام کر رہے ہیں۔درد صاحب مرحوم کے جماعت پر خاص طور پر ذمہ واریاں ڈالنے والے کام رہے ہیں۔یعنی انہوں نے اپنی زندگی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے وقف کی اور بڑی محنت اور جانفشانی اور خلوص کے ساتھ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر آپ کی ہدایات پر کام کرتے رہے۔آپ کے سب بچوں کے لئے ہی دعا کرنی چاہیے کہ جو دل درد صاحب مرحوم کے سینہ میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تھا اور جو ذہن ان کے سر میں پیدا کیا تھا اللہ تعالیٰ ویسا ہی ذہن اور ویسا ہی