خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 494 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 494

خطبات ناصر جلد دہم ۴۹۴ خطبہ نکاح ۵/ دسمبر ۱۹۶۹ء آئندہ آنے والی نسلوں پر بھی پڑتا ہے۔اس لئے اس کی بڑی اہمیت ہے اور اس کے متعلق اسلام نے ہمیں بڑی تفصیلی تعلیم دی ہے کہ اس رشتہ کو کس طرح کامیابی کے ساتھ نباہنا چاہیے۔اس تفصیل میں تو میں اس وقت جا نہیں سکتا کیونکہ رمضان کا مہینہ ہے اور افطاری کا وقت قریب ہے اور دوستوں نے باہر کے محلوں میں جانا ہے صرف یہ اشارہ کرنے کے بعد سب بھائیوں سے یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ ان رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے بہت دعا کریں۔ماں باپ کے کچھ حقوق ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھی نظر انداز نہیں کیا کرتا جیسا کہ قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے اس کا ذکر ہے۔جو رشتے آج ہو رہے ہیں جن کا میں اعلان کروں گا ان ہر دو دولہا اور دلہنوں کے خاندان ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے سلسلہ کی خدمت کی توفیق عطا کی اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنے۔ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اس مرکزی نکتہ کو آئندہ پیدا ہونے والی نسلیں سمجھیں کہ ہر خیر اور برکت اس میں ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت کا پختہ تعلق قائم کیا جائے اور آج یہ تعلق پختگی کے ساتھ قائم ہو نہیں سکتا جب تک کہ ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک پختہ تعلق قائم نہ ہو جائے۔انسان اگر اس مرکزی نکتے کو سمجھ لے تو وہ ہزار قسم کی بلاؤں سے اور آفات سے محفوظ ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کے وارث بنے کا امکان اس کے لئے پیدا ہوجاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ہر ایک کی استعداد کے مطابق جتنی جتنی توفیق دیتا چلا جائے اس کے مطابق وہ انعامات کا وارث بنتا چلا جاتا ہے۔بہر حال ہم پر کچھ حقوق ہیں۔اور ان حقوق کی ادائیگی کا بہترین طریق یہ ہے کہ ہم عاجزانہ پر اپنے رب کے حضور یہ دعا کریں کہ وہ ان تعلقات کو اپنی رحمتوں سے نوازے اور یہ نئے خاندان رحمت کے سایہ تلے رہیں۔پلیں اور بڑھیں۔پھولیں اور پھلیں۔اللہ تعالیٰ ہر قسم کی رحمتوں کا انہیں وارث کرے۔اس وقت میں دو نکاحوں کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں ایک تو عزیزہ بچی ویسے رشتہ میں