خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 445 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 445

خطبات ناصر جلد دہم ۴۴۵ خطبہ نکاح ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء کسی شعبہ زندگی کے متعلق بھی خدا اور رسول کی تعلیم کو بھلا نا نہیں چاہیے خطبہ نکاح فرموده ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر مندرجہ ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔ا۔عزیزہ نازلی سعید صاحبہ بنت محترم ڈاکٹر سعید احمد صاحب میڈیکل مشنری گیمبیا ( مغربی افریقہ ) کا نکاح ہمراہ عزیزم مکرم عبدالرشید شریف صاحب (اکسٹر اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ ) ابن محترم چوہدری محمد شریف صاحب فاضل انچارج مشن گیمبیا ( مغربی افریقہ ) بعوض مبلغ سات ہزار روپیہ مہر پر۔۲۔عزیزه زرینہ اختر صاحبہ بنت مکرم قریشی مختار احمد صاحب کارکن وکالت تبشیر ربوہ کا نکاح ہمراہ عزیزم مکرم مرزا نصیر احمد صاحب ابن محترم مرزا محمد حسین صاحب چٹھی مسیح ربوہ بعوض ایک ہزار روپیہ مہر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ان آیات میں جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہیں ہمیں ایک پر حکمت اور بنیادی تعلیم یہ بھی دی گئی ہے کہ اگر ہم فلاح و کامیابی اور بامرادی چاہتے ہیں تو اسے ہم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہی حاصل کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم